ممبئی 3جولائی: شیوسینا یو بی ٹی چیف ادھو ٹھاکرے نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی پر ایودھیا رام مندر کے چندہ کی لوٹ کا سنگین الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ 5 جولائی کو ممبئی کے دادر علاقے میں وہ ’رام رکشا‘ نام سے احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور اس کے ساتھ ہی ریاست گیر تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ ادھو ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے عطیہ کی گئی رقم کو ’لوٹ لیا‘ ہے اور اسے اس کا جواب دینا چاہیے۔ ادھو ٹھاکرے نے بتایا کہ اتوار کی شام 5 بجے دادر کے کبوتر خانہ واقع ہنومان مندر کے قریب احتجاج شروع کیا جائے گا۔ انھوں نے تمام شہریوں کو اس احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قسم کے امتیاز سے بالاتر ہو کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ہر اس ہندو کو دعوت دیتا ہوں جو بھگوان رام کے گھر میں ہونے والی اس چوری کو برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ہندوتوا یا بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریے کو ترک نہیں کیا۔ ہم سب رام رکشا ستوتر، ہنومان ستوتر اور ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرنے کے لیے جمع ہوں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود پارٹی کے سرکردہ لیڈران اور شیوسینکوں کے ساتھ اس احتجاج کی قیادت کریں گے۔ رام جنم بھومی تحریک کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ آج بی جے پی کی سیاسی بالادستی عام ہندوؤں کی قربانیوں پر قائم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ملک بھر کے ہندوؤں نے اس تحریک میں حصہ لیا، جس نے بی جے پی کو کھڑا کیا۔ ہمیں کارسیوکوں پر ہونے والے مظالم، گودھرا سانحہ، احمد آباد فسادات اور ممبئی میں پیش آنے والی مصیبتیں یاد ہیں۔ ان تمام تکالیف کے باوجود ہندوؤں نے ثابت قدمی دکھائی۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی، جس کے پاس اس تحریک سے پہلے صرف 2 اراکینِ پارلیمنٹ تھے اور جو ’گاندھی وادی سماجواد‘ کی پیروکار تھی، ہندوتوا کی طرف مڑ گئی اور رام مندر کے مسئلہ کو اپنا سیاسی موضوع بنا لیا۔‘‘








