شیوہر 02؍جولائی(پریس ریلیز): ضلع ہیڈکوارٹر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع، علمی و دینی اعتبار سے معروف بستی بسیہا شیخ، جس نے ماضی میں ضلع کو بے شمار علماء، حفاظ اور دانشور فراہم کیے، آج بھی اپنی علمی وراثت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اسی بستی میں قائم دینیات اکیڈمی نے قلیل عرصے میں قرآنِ کریم کی تعلیم، تجوید اور حفظ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اکیڈمی سے اب تک متعدد حفاظِ کرام فارغ التحصیل ہو چکے ہیں، جبکہ حال ہی میں مزید دو خوش نصیب طلبہ، حافظ نوراللہ بن مولانا نظام الدین صاحب قاسمی اور حافظ محمد نوشاد بن نیاز احمد عرف موتی، نے حفظِ قرآنِ کریم کی سعادت مکمل کر کے اپنے والدین، اساتذہ، اکیڈمی اور پورے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔اس مبارک موقع پر حضرت مولانا اظہار الحق مظاہری، ناظم الجامعۃ العربیہ اشرف العلوم کنہواں کی صدارت میں ایک روحانی دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا۔ مجلس میں پروفیسر مختار صاحب قاسمی، مولانا فخرالدین قاسمی، مفتی ظفرالہدا قاسمی، مولانا شمعون صاحب قاسمی، مولانا نجم الحسن قاسمی اور دیگر جید علماء کرام نے اپنے ایمان افروز خطابات میں قرآنِ کریم کی عظمت، حفظِ قرآن کی فضیلت اور دینی تعلیم کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی۔
علماء نے حاضرین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو حفظِ قرآن کی عظیم سعادت سے ضرور بہرہ ور کریں، اور اگر کسی کے اپنے بچے نہ ہوں تو اپنے بھتیجوں، رشتہ داروں یا کسی مستحق مسلمان بچے کی کفالت کر کے اسے حافظِ قرآن بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہ ایسا صدقۂ جاریہ ہے جس کا اجر دنیا و آخرت دونوں میں میسر آئے گا۔ مزید برآں، یہ تاکید بھی کی گئی کہ جو افراد ناظرہ قرآن پڑھنا جانتے ہیں، وہ کم از کم سال میں دو مرتبہ مکمل قرآنِ کریم کی تلاوت ضرور کریں، کیونکہ یہ قرآنِ مجید کا ایک اہم حق ہے۔
اس موقع پر دینیات اکیڈمی کی جانب سے حفاظِ کرام کو قرآنِ مجید، “مفتاح الجنۃ”، فریم، قلم اور دیگر قیمتی تحائف پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ اکیڈمی کے تقریباً 80 طلبہ و طالبات میں بھی حوصلہ افزائی کے طور پر قلم تقسیم کیے گئے۔تقریب کے دوران اکیڈمی کے سرپرست کی جانب سے جناب نیاز احمد عرف موتی صاحب، سیکریٹری مرکزی جامع مسجد بسیہا شیخ کو ہندی قرآن پاک مع ترجمہ قرآنِ مجید بطور تحفہ پیش کیا گیا۔ اسی طرح مولانا شمعون قاسمی، مولانا نجم الحسن صاحب، پروفیسر مختار صاحب، ماسٹر اسید صاحب، حافظ محمد سیف اللہ اور دیگر معزز شخصیات کو بھی قلم، ڈائری اور دیگر تحائف سے نوازا گیا۔
تقریب کے اختتام پر صدرِ مجلس حضرت مولانا اظہار الحق مظاہری نے نہایت مؤثر اور جامع خطاب فرمایا، جس میں قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق قائم رکھنے، نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت اور معاشرے میں دینی شعور بیدار کرنے کی تلقین کی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے دونوں حفاظِ کرام، ان کے والدین، اساتذہ، دینیات اکیڈمی اور پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
اس روحانی و باوقار تقریب میں علاقے کے علماء، ائمہ، دانشوران، سماجی شخصیات، اکیڈمی کے طلبہ، سرپرستان اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی اور دونوں حفاظِ کرام کو مبارکباد و دعاؤں سے نوازا۔آخر میں بستی بسیہا شیخ اور بالخصوص دونوں حفاظِ کرام کے والدین کی جانب سے دینیات اکیڈمی کے استاذِ محترم حضرت مولانا شرف عالم ندوی، امام و خطیب مرکزی جامع مسجد بسیہا شیخ، کی قرآنی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھی خصوصی تحائف پیش کیے گئے، جس پر حاضرین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اکیڈمی کی مسلسل دینی و تعلیمی خدمات کو سراہا۔









