نئی دہلی29جون: مغربی ایشیا میں کشیدگی اور بین الاقوامی تیل مارکیٹ میں جاری شدید ہلچل کے درمیان ہندوستانی گاڑی مالکان اور ٹرانسپورٹروں کے لیے ایک بہت بڑی اور راحت بخش خبر آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی سے پیٹرول پمپوں پر کمرشیل خریداروں کے لیے تیل کی ‘راشننگ’ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ گزشتہ ماہ جب ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کا راستہ بند ہو گیا تھا، تب ملک میں ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور قلت کو روکنے کے لیے حکومت نے ہنگامی قوانین نافذ کیے تھے۔ حکومت نے ریٹیل پیٹرول پمپوں پر روزانہ 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل خریدنے پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن اب تیل کی سپلائی مکمل طور پر بہتر ہونے اور حالات قابو میں آنے کے بعد حکومت نے اپنا یہ سخت فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس پابندی کے ہٹنے کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ اب ٹرک، بس اور بھاری صنعتوں سے وابستہ کمرشیل خریدار بغیر کسی کوٹے یا حد کے پیٹرول پمپوں سے جتنا چاہیں اتنا ایندھن خرید سکیں گے۔ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ مارکیٹ میں ضروری اشیاء کی ترسیل بھی تیز ہوگی، جس سے عام صارفین کو بھی مہنگائی کے محاذ پر کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔
دراصل، جون کے مہینے میں اس پابندی کو نافذ کرنے کی بنیادی وجہ ریٹیل (پیٹرول پمپ) اور تھوک (ہول سیل سپلائی) ایندھن کی قیمتوں کے درمیان بہت بڑا فرق تھا۔ ملک کی مجموعی ایندھن مارکیٹ میں صرف ڈیزل کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ بحران کے دوران صنعتی اور بڑے کمرشیل صارفین کو فراہم کیے جانے والے تھوک ڈیزل کی قیمت، عام پیٹرول پمپوں پر دستیاب ریٹیل ڈیزل کے مقابلے میں تقریباً 40 روپے فی لیٹر زیادہ مہنگی ہو گئی تھی۔ اس بڑے فرق سے فائدہ اٹھانے کے لیے تمام بڑی ٹرک کمپنیوں اور صنعتوں نے تھوک میں ڈیزل خریدنا بند کر دیا اور اپنی گاڑیوں کو براہِ راست عام پیٹرول پمپوں پر قطاروں میں کھڑا کرنا شروع کر دیا۔

ADVERTISEMENT

کمپنیوں کو ہونے لگا نقصان
اس اچانک بڑھی ہوئی بھاری ڈیمانڈ کا سب سے بڑا جھٹکا ملک کی سرکاری تیل کمپنیوں انڈین آئل (IOC)، بھارت پیٹرولیم (BPCL) اور ہندوستان پیٹرولیم (HPCL) کو لگا۔ یہ کمپنیاں مل کر ملک کے ایک لاکھ سے زیادہ پیٹرول پمپوں میں سے تقریباً 90 فیصد کا انتظام چلاتی ہیں۔ چونکہ ریٹیل پیٹرول پمپوں پر ڈیزل سستا مل رہا تھا، اس لیے ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے ڈیزل یہیں سے بھرانا شروع کر دیا۔ بڑی مقدار میں ڈیزل بھروانے کی وجہ سے فی لیٹر کے حساب سے کمپنیوں کا نقصان مزید بڑھ گیا، کیونکہ ان کے لیے خام تیل پہلے ہی مہنگا آ رہا تھا۔

Dragon Fruit: ڈریگن فروٹ کے حیران کن فوائد
Dragon Fruit: ڈریگن فروٹ کے حیران کن فوائداور پڑھیں…
کمپنیاں کسی نہ کسی طرح نقصان برداشت کرتے ہوئے عام لوگوں کو قیمتیں بڑھائے بغیر پیٹرول اور ڈیزل فراہم کر رہی تھیں، لیکن بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے اسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ حکومت نے اس بات کو بھانپ لیا اور پابندی عائد کر دی۔ اب جبکہ حالات معمول پر آ گئے ہیں، یہ پابندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔

WHATSAPP
FACEBOOK
TELEGRAM
TWITTER
نیوز18اردو ہندوستان میں اردو کی سب سے بڑی نیوز ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ برائے مہربانی ہمارے واٹس چینل کو لائیو، تازہ ترین خبروں اور ویڈیوز کے لئے فالو کریں۔آپ ہماری ویب سائٹ پر خبروں، تصاویر اور خیالات کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ، کرکٹ جیسے کھیلوں اور لائف اسٹائل سے منسلک مواد دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز،شیئرچیٹ، ڈیلی ہنٹ جیسے ایپس پر بھی فالوکرسکتے ہیں۔
Tags: petrol diesel price
FIRST PUBLISHED : JUNE 29, 2026, 8:06 PM IST
Read More