آج ہر انسان ایک نئی دنیا میں جی رہا ہے۔ایسی دنیا جہاں فاصلے ختم ہو چکے ہیں، اور ایک موبائل اسکرین پوری کائنات کو ہمارے سامنے لے آتی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو بولنے، لکھنے اور اثر انداز ہونے کی طاقت دے دی ہے۔ اب نہ کسی بڑے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، نہ کسی ادارے کی ۔ہر شخص خود ایک ’’میڈیا‘‘ بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا رُخ کس طرف ہے؟
بلاشبہ سوشل میڈیا نے بے شمار مثبت امکانات پیدا کیے ہیں۔ علم کا منتقل کرنا آسان ہوا، مظلوم کی آواز بلند ہوئی، اور اصلاحی و دینی پیغامات عام لوگوں تک پہنچنے لگے۔ آج قرآن و حدیث کی باتیں، علماء کے بیانات، اور دینی رہنمائی چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی سہولت ہے جس کا تصور چند دہائیاں پہلے ممکن نہ تھا۔
مگر تصویر کا دوسرا رخ اتنا ہی تشویشناک اور غور و فکر کا مقام ہے ۔ یہی سوشل میڈیا جہاں روشنی پھیلا سکتا ہے، وہیں اندھیرا بھی بڑھا رہا ہے۔ جھوٹی خبریں، ادھوری معلومات، نفرت انگیز تقاریر اور بے بنیاد الزامات تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ہر شخص بغیر تحقیق کے کچھ بھی شیئر کر دیتا ہے، اور یوں ایک جھوٹ سینکڑوں سچائیوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ یعنی ہم نے سوشل میڈیا کو آئینہ بنانے کے بجائے ہتھیار بنا لیا ہے۔
خاص طور پر دینی معاملات میں یہ مسئلہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں مذہبی پیغامات، ویڈیوز اور تقاریر گردش کر رہی ہیں۔ بظاہر یہ سب دین کی خدمت معلوم ہوتے ہیں، مگر ہر بات درست ہو، یہ ضروری نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان نسل، جو سوشل میڈیا کو سب سے زیادہ استعمال کرنے والی ہے، اکثر یہ پہچان نہیں کر پاتی کہ کس کی بات معتبر ہے اور کس کی نہیں۔
یہی وہ نازک مقام ہے جہاں سے گمراہی کے دروازے کھلتے ہیں۔ ادھوری معلومات، جذباتی بیانات اور غیر مستند افراد کی باتیں بعض اوقات نوجوانوں کو انتہا پسندی، تنگ نظری یا غلط فہمیوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ دین جو اعتدال، حکمت اور برداشت کا درس دیتا ہے، اسے بعض لوگ سوشل میڈیا پر سختی، نفرت اور تقسیم کے رنگ میں پیش کرتے ہیں اور نادان ذہن اسے ہی سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
یہ صورت حال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو صرف استعمال نہ کریں بلکہ اسے سمجھ کر، پرکھ کر استعمال کریں۔ ہر دینی پیغام کو بلا تحقیق آگے بڑھانا دراصل ایک بڑی ذمہ داری سے غفلت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بات کہنے والا کون ہے۔نوجوانوں کے لیے خاص طور پر یہ ضروری ہے کہ وہ مستند علماء اور معتبر ذرائع سے رہنمائی حاصل کریں، نہ کہ ہر وائرل ویڈیو یا جذباتی تقریر کو سچ مان لیں۔ اسی طرح والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کی رہنمائی کریں اور انہیں سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کا شعور دیں۔
سوشل میڈیا ایک طاقت ہے—نہ مکمل خیر، نہ مکمل شر۔ یہ ہمارے استعمال پر منحصر ہے کہ ہم اسے اصلاح کا ذریعہ بناتے ہیں یا انتشار کا ہتھیار۔ اگر ہم نے ذمہ داری، تحقیق اور شعور کو اپنا لیا تو یہی پلیٹ فارم محبت، اتحاد اور صحیح دینی فہم کو عام کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آخر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، ہمارا رویہ ہے۔ جب تک ہم خود سنجیدہ، باخبر اور ذمہ دار نہیں بنیں گے، کوئی بھی پلیٹ فارم ہمیں صحیح راستہ نہیں دکھا سکتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی انگلیوں کو نہیں، اپنی سوچ کو درست کریں۔کیونکہ یہی سوچ طے کرے گی کہ سوشل میڈیا ہمارے لیے روشنی بنے گا یا اندھیرا۔









