پٹنہ19جون: بہار میں ایک نئے سیاسی تنازعہ نے جنم لیا ہے، جہاں عدالت کے حکم پر جن شکتی جنتا دل کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو کے خلاف پاٹلی پُتر پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ مقدمہ انوشکا یادو کے بھائی آکاش یادو کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ آکاش یادو کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور اس سلسلے میں ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی ثبوت کے طور پر فراہم کی گئی ہے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (قانون و انتظام) دیویانجلی جیسوال نے بتایا کہ دھمکی آمیز کالیں مبینہ طور پر امریکہ کے ایک نمبر سے کی گئی تھیں اور شکایت کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق چھ جون کو تیج پرتاپ یادو اور ان کے ساتھی موتی لال یادو مبینہ طور پر پاٹلی پترا علاقے میں آکاش یادو کے گھر پہنچے تھے، اس وقت آکاش یادو کھاٹو شیام کی زیارت پر گئے ہوئے تھے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ دونوں نے گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی اور وہاں موجود اہل خانہ کو دھمکیاں دیں۔ آکاش یادو نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ بعد میں انہیں موتی لال یادو اور ایک دوسرے شخص کی جانب سے فون آیا، جس نے خود کو ایک جرائم پیشہ گروہ کا رکن بتایا۔ شکایت کے مطابق فون کرنے والے نے تیج پرتاپ یادو کے خلاف عوامی سطح پر کوئی بیان نہ دینے کی وارننگ بھی دی۔ دوسری جانب تیج پرتاپ یادو نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں سیاسی طور پر محرک اور مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شکایت ذاتی رنجش کے تحت درج کرائی گئی ہے، کیونکہ شکایت کنندہ کے طرز عمل کے خلاف قانونی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔









