نئی دہلی19جون: کانگریس کے جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ اور ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل کرانے کے معاملے پر مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے عوام نے حکومت چلانے کے لیے اکثریت دی ہے، لیکن دو تہائی اکثریت کا مینڈیٹ نہیں دیا۔ ایسے میں عوام کی طرف سے نہ دی گئی اکثریت کو مصنوعی طور پر تیار کرنے کی کوشش جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ جس قانون سازی کی تجویز پہلے مسترد ہو چکی تھی، اسے دوبارہ ایک مصنوعی اکثریت کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش دراصل سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے، جس کی اجازت ملک کے عوام نے کبھی نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں کو توڑ کر، ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل کرا کے اور مصنوعی اکثریت تیار کر کے آئینی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک کے عوام اسے قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ بندی کے عمل کے لیے ایک طے شدہ آئینی ڈھانچہ موجود ہے۔ پہلے مردم شماری ہونی چاہیے، اس کے بعد کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور پھر حلقہ بندی کا عمل آگے بڑھنا چاہیے۔ سچن پائلٹ کے مطابق مقررہ طریقہ کار کے بغیر حلقہ بندی کرنا صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو غیر آئینی، غیر اخلاقی اور دستور کے منافی ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک کے عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کس نوعیت کے طریقے اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن آئینی اداروں اور جمہوری روایات کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو عوام برداشت نہیں کریں گے۔









