بھوپال:18؍جون:وزیرپنچایت اور دیہی ترقیات اور محنت مسٹرپرہلاد سنگھ پٹیل نے کہا کہ ہمارے افسران مسلسل شدید دباؤ میں عوامی خدمت کا کام انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کی بھلائی اور ذہنی صحت ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ وزیر جناب پٹیل محکمہ محنت کے افسروں کے لیے منعقد کیے گئے ‘اعلیٰ تناؤ والی عوامی خدمت کی ذمہ داریوں میں برن آؤٹ کی روک تھام’ کے موضوع پر ایک خصوصی آن لائن سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر مسٹر پٹیل نے کہا کہ کام کی جگہ پر تناؤ سے متعلق فیڈبیک نظام نافذ کر کے محکماتی ٹیموں کی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اس سیشن میں ریاست کے 79 سینئر افسروں نے حصہ لیا۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ، مسلسل بجتے فون اور فائلوں کے دباؤ سے نبرد آزما افسروں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے اور کام کی جگہ پر ان کے رویّے میں مثبت تبدیلی لانے کے مقصد سے یہ سیشن منعقد کیا گیا تھا۔آرڈن یونیورسٹی، لندن کی لیکچرر اور ہیلتھ سائیکالوجی کی ماہر محترمہ مکتی سنگھ ٹھاکر نے سیشن کی مرکزی قیادت کی۔ انہوں نے ایک وسیع سائنسی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حد سے زیادہ تناؤ کے ساتھ ساتھ یہ سوچنا کہ ‘تناؤ صحت کو نقصان پہنچا رہا ہے’، موت کے خطرے کو 43 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ جبکہ جو لوگ تناؤ کو نقصان دہ نہیں سمجھتے، ان میں ایسا کوئی خطرہ نہیں دیکھا گیا۔ محترمہ ٹھاکر نے تناؤ کو قابو میں رکھنے کا ایک نہایت سادہ اور مؤثر طریقہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مشکل صورتحال میں پریشان ہونے سے پہلے صرف 30 سیکنڈ کا وقفہ لیں اور اردگرد کی کسی عام چیز جیسے چھت کا پنکھا، کھڑکی یا اپنی آتی جاتی سانسوں پر توجہ مرکوز کریں۔ یہ مختصر وقفہ دماغ کو ‘محفوظ’ ہونے کا واضح سگنل دیتا ہے، جس سے اعصابی نظام کا جھوٹا الارم بند ہو جاتا ہے۔ لمبی سانس خارج کرنے اور آہستہ سانس لینے کی یہ پرانایام تکنیک دل کو پرسکون کر کے بلڈ پریشر کو فوراً قابو میں لاتی ہے۔ماہر محترمہ ٹھاکر نے کہا کہ روزانہ کے غیر قابو شدہ تناؤ والے ردِعمل جسم میں کورٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمونز کی سطح بڑھا دیتے ہیں۔ یہی کیفیت آگے چل کر بلند فشار خون، دل کے امراض اور ٹائپ-2 ذیابیطس جیسی سنگین بیماریوں کی پوشیدہ وجہ بنتی ہے۔









