حیدرآباد 15جون: اتر پردیش کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بہرائچ سے 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ’’حصہ داری‘‘ اور ’’برابری‘‘ کو مرکزی نعرہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلمان اب محض دوسری جماعتوں کے لیے ’’قالین بچھانے‘‘ کا کردار ادا نہیں کریں گے بلکہ اقتدار میں اپنے جائز حصے اور مؤثر نمائندگی کا مطالبہ کریں گے۔ اویسی کا یہ خطاب صرف ایک انتخابی جلسہ نہیں بلکہ اتر پردیش میں AIMIM کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا واضح اعلان بھی سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلمان اور دیگر محروم و پسماندہ طبقات کو صرف ووٹ بینک کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ انہیں سیاسی فیصلوں، حکومتی پالیسی سازی اور اقتدار کے ڈھانچے میں مناسب حصہ ملنا چاہیے۔اپنے خطاب میں اویسی نے کہا کہ کئی دہائیوں سے مسلمان مختلف سیاسی جماعتوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں اقتدار کے مراکز میں متناسب نمائندگی نہیں مل سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی طبقہ انتخابات میں کسی جماعت کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے تو اسے سیاسی طاقت اور حکومتی نمائندگی میں بھی مساوی حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ مسلمان محض انتخابی حمایت تک محدود رہنے کے بجائے اپنی سیاسی طاقت کو منظم کریں اور اقتدار میں حقیقی شراکت داری کے لیے جدوجہد کریں۔