چھتیس گڑھ: میں پیشنگوئی نہیں کر رہا ہوں بلکہ جو دیکھ رہا ہوں وہ آپ سب کے گوش گزار کر رہا ہوں ۔ آگر اب بھی ہم نے احتیاط سے کام نہیں لیا تو ملک اور ہم سب بہت بڑی مصیبت میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔
میں نے پچھلی تین دہائیوں میں اس سال مارکیٹ میں اتنے جامن کبھی نہیں دیکھے ۔ اس سال وقت سے بہت پہلے سے جامن مارکٹ میں آرہے ہیں اور ہم مزے لے لے کر شوق سے کھا رہے ہیں ۔ لیکن کبھی یہ سوچا ہے کے اس سال جامن وقت سے پہلے اور ضرورت سے زیادہ کیوں آرہئے ہیں ۔ ایک طرح سے مارکٹ میں جامن کی سونامی آئی ہوئی ہے ۔
جن درختوں نے پچھلے سال صرف چند ہی جامن دیئے تھے۔ اب وہ ہی جامن کے پیڑ جامن سے لدے ہوئے ہیں۔ وہ درخت بھی جو پھل نہیں دیتے تھے وہ بھی جامن کے گچھوں سے بھر گئے ہیں۔
میرے پولٹری فارم پرجامن کے پرانے پیڑ ہیں ان میں ہر سال کچھ پیڑوں پر جامن آتے ہیں ۔ لیکن اس سال تقریباً تمام پیڑوں پر کثرت سے جامن لگے ہیں ۔ اسلئے میں بھی حیران تھا ۔ لیکن جب مارکٹ اور فارم پر وقت سے پہلے اور کثرت سے جامن دیکھے تو اچانک مرحومہ دادی جان کی تیس پہلے کہی گئی بات یاد آگئی اور وقت سے پہلے اور کثرت سے جامن کی فصل کا راز سمجھ میں آگیا جو کافی پریشان کرنے والا ہے ۔
دادی جان کہا کرتی تھیں، ’’جس موسم گرما میں جامن کی فصل وقت سے پہلے اور کثرت سے دیکھائی دے تو سمجھ لو اس سال خشک سالی آنے والی ہے ۔
ہماری دادیوں نانیوں کی یہ روایتی حکمت نباتاتی سائنس کے مطابق بالکل درست ہے۔ سائنس میں اس دلچسپ اور اتنے ہی حیران کن عمل کو “مسٹنگ یا Stress Fruitingکہا جاتا ہے۔
درختوں کی طرف سے زیادہ سے زیادہ پھل پیدا کرنے کی کوشش کرنے کی اس آخری کوشش کو بعض اوقات “خودکش پھل” یا بمپر کراپ” کہا جاتا ہے۔
یہ اصل میں کیا ہے اور اس کے پیچھے سائنس کیا کہتی ہے؟ آئیے اسے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:
1۔ ‘بقا کی جبلت – وجود کی لڑائی
جیسا کہ پروفیسر میڈم نے وضاحت کی، یہ فطرت کا اصول ہے “کسی کے جین کو فروغ دینا۔” جب درخت زیر زمین پانی کی کمی محسوس کرنے لگتا ہے یا موسم میں بڑی تبدیلیوں کے آثار محسوس کرتا ہے تو وہ “دفاعی موڈ” میں چلا جاتا ہے۔
درخت کو احساس ہو جاتا ہے کہ وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ایسے وقتوں میں، اپنی حفاظت کے بجائے، زمین پر اپنی نسل کو برقرار رکھنے کے لیے، درخت اپنی ساری توانائی “بیج” یعنی پھل پیدا کرنے میں لگا دیتا ہے۔
2۔ نئے پتے اور شاخیں روکنا
ایسے سالوں میں، درخت مکمل طور پر نئے پتوں یا شاخوں کو اگنا بند کر دیتا ہے۔ کیونکہ نئے پتوں کو زندہ رکھنے کے لیے زیادہ پانی اور غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ درخت اس توانائی کو بچاتا ہے اور صرف جامن کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن درختوں پر پچھلے سال کچھ پھل لگے تھے اب اس سال وہ جامن سے بھر گئے ہیں۔
3۔ دادی کی پیشین گوئی اور سائنس – خشک سالی سے تعلق
دادی کا مشاہدہ بالکل درست ہے، کیونکہ پودے اور درخت موسم کی تبدیلیوں کو انسانوں کے مقابلے بہت پہلے اور زیادہ حساس طریقے سے پہچانتے ہیں۔
جامن کے درخت کی جڑ ایک “نل جڑ” ہے جو زمین کی گہرائی تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔جب زیر زمین پانی کی سطح بہت کم ہو جاتی ہے تو یہ جڑیں پانی کے دباؤ کا تجربہ کرتی ہیں۔پانی کا یہ تناؤ آنے والی خشک سالی یا شدید گرمی کی علامت ہے۔
لہذا، جس سال جامن کی اتنی بے مثال کثرت گرمیوں میں ظاہر ہوتی ہے، آنے والی خشک سالی کی فطرت کی طرف سے انتباہ ہے۔
مختصراً…
جامن کا درخت خودکشی نہیں کر رہا ہے بلکہ اپنی اگلی نسل یعنی بیج کو جنم دینے کے لیے خود کو قربان کر رہا ہے۔ فطرت کا یہ چکر واقعی حیران کن ہے۔ دادی جان کا پرانا مشاہدہ اور سائنس کے اصول یہاں بالکل ملتے ہیں۔
اس سال جامن کے ذائقے سے لطف اندوز ہوں، لیکن قدرت کی طرف سے خشک سالی” کی اس نشانی کو سنجیدگی سے لیں اور پانی اور وسائل کو سمجھداری سے استعمال کریں، یہی سکھاتا ہے! ہمیں کم سے کم پانی برباد کرنا ہے تاکہ آنے والے برے وقت میں ہمیں پانی کی قلت نہ جھیلنی پڑے ۔ پانی کی قلت اور کمی زندگیاں چھین سکتی ہیں ۔ اسلئے وقت سے پہلے جاگنا ضروری ہے ۔ آئیے جامن کھائیں لطف اٹھائیں اور جامن کا شکر ادا کریں کہ جامن نے ہمیں وقت سے پہلے خشک سالی سے آگاہ کردیا ہے ۔ الللہ دادی مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔ڈاکٹررونق جمال(درگ چھتیس گڑھ )۔