نئی دہلی 13جون: اے آئی سی سی کی تنظیم ‘راجیو گاندھی پنچایتی راج سنگٹھن‘ کے کارکنان نے راج گھاٹ پر ستیہ گرہ کرتے ہوئے میناکشی نٹراجن کے معاملے پر ریاستی سطح پر جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے قومی چیئرمین سنیل پنوار نے کہا کہ ان کی لڑائی صرف ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت، آئین اور گاندھی وادی نظریات کے تحفظ کے لیے ہے۔ کانگریس کے ایکس ہینڈل پر جاری ایک ویڈیو بیان میں سنیل پنوار نے کہا کہ تنظیم کے مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان گزشتہ روز جنتر منتر پر ستیہ گرہ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد الیکشن کمیشن کے کردار کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار آئینی ادارے کے بجائے حکومت اور بی جے پی کے مفادات کے مطابق کام کر رہا ہے، جو جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ سنیل پنوار نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن انہیں وہاں احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے 33 ساتھیوں کو بھی مختلف تھانوں میں لے جایا گیا۔ ان کے مطابق 17 کارکنان کو دوارکا تھانے اور 16 کارکنان کو کاپسہیڑا تھانے منتقل کیا گیا۔
بعد ازاں مچلکے اور بانڈ بھروا کر رات گئے انہیں رہا کر دیا گیا۔ سنیل پنوار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے بھوک ہڑتال کی اجازت نہ ملنے کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ راج گھاٹ پہنچے تاکہ مہاتما گاندھی کے نظریات سے وابستگی کا اظہار کیا جا سکے اور جدوجہد کے عزم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب یہ تحریک ریاستی سطح پر چلائی جائے گی۔ ان کے مطابق مختلف ریاستوں میں ایک روزہ روزہ، ستیہ گرہ اور عوامی بیداری کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ لوگوں کو موجودہ حالات سے آگاہ کیا جا سکے۔ سنیل پنوار نے کہا کہ یہ جدوجہد صرف میناکشی نٹراجن کے ساتھ مبینہ ناانصافی کے خلاف نہیں بلکہ گاندھی وادی نظریات کے دفاع کی لڑائی بھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی گاندھی وادی آوازوں کو ایوان بالا تک پہنچنے سے روکنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم ایسی تمام قوتوں کے خلاف متحد ہو کر میدان میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔