بھوپال 13جون: وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ یکساں شہری ضابطہ (یونیفارم سول کوڈ) کے بارے میں پالیسی سازی عام لوگوں کی تجاویز کی بنیاد پر کی جائے گی۔ بہتر پالیسی سازی کے لیے عوام کی بہتر شمولیت ضروری ہے۔ ریاست کے شہریوں سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں تجاویز حاصل کرنے کے لیے تمام اضلاع میں بیداری مہم چلائی جائے۔ شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہات کی سطح تک لوگوں کو اپنی رائے دینے کے لیے ترغیب دی جائے۔ شہری سطح پر اسکولوں اور کالجوں میں مختلف سرگرمیاں منعقد کی جائیں، سماجی و تجارتی اداروں، بار کونسل اور دیگر تنظیموں میں مباحثے اور نشستوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ عام لوگ اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔
سرکاری افسران اور ملازمین بھی یکساں شہری ضابطہ کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کریں۔ دیہی سطح پر روزگار معاونین، پنچایت سیکریٹری اور دیگر ذمہ داران اس موضوع پر گفتگو کو فروغ دیں۔ اس سلسلے میں خصوصی گرام سبھا اجلاس بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ تمام ضلعی کلکٹر اس سرگرمی کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیں۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے یہ ہدایات ہفتہ کے روز یکساں شہری ضابطہ بیداری مہم کے حوالے سے ضلعی کلکٹروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں دیں۔ وزیرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ واقع سمتو بھون میں منعقدہ اجلاس میں چیف سیکریٹری مسٹر انوراگ جین، ایڈیشنل چیف سیکریٹری مسٹر نیرج منڈلوئی، مسٹر انوپم راجن اور مسٹر شیو شیکھر شکلا موجود تھے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں 22 جون تک تجاویز طلب کی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے خصوصی ویب سائٹ ucc.mp.gov.in جاری کی گئی ہے، جس پر تجاویز دینے کا طریقہ بہت آسان ہے۔
ویب سائٹ کے فارم میں صرف نام، جنس، مذہب، ڈویڑن، ضلع، پتہ اور موبائل نمبر درج کرنا ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر 12 سوالات کے جواب ہاں یا نہیں میں دینا ہوتے ہیں۔ موبائل او ٹی پی کے ذریعے تصدیق کے بعد تجویز جمع ہو جاتی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس سلسلے میں ضلعی سطح پر جاری سرگرمیوں کی معلومات بھی حاصل کیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ یکساں شہری ضابطہ کے مقصد اور طریقہ کار سے متعلق معلومات کو وسیع پیمانے پر عام کرنے کے لیے عوامی نمائندوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ انہوں نے سیلف ہیلپ گروپس، خواتین کی انجمنوں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے بیداری بڑھانے کی بھی ہدایت دی۔ قابلِ ذکر ہے کہ ریاست میں مختلف شخصی اور خاندانی قوانین کے تحت شادی، طلاق، نان و نفقہ، وراثت اور دیگر معاملات سے متعلق الگ الگ قانونی دفعات موجود ہیں، جن کا جامع جائزہ لے کر ایک مناسب قانونی ڈھانچہ تیار کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اسی مقصد کے لیے ریاستی حکومت نے اس موضوع کے قانونی، سماجی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی مطالعہ کرنے اور یکساں شہری ضابطہ سے متعلق سفارشات پیش کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی اضلاع کا دورہ کر رہی ہے اور لوگوں کو اپنی تجاویز پیش کرنے کے لیے ترغیب دے رہی ہے۔