بھوپال:13؍جون:(پریس ریلیز) مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، سنسکرتی پریشد، محکمۂ ثقافت کے زیر اہتمام ضلع ادب گوشہ، بڑوانی کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاش جوہر‘‘کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد 14 جون 2026 کو انجمن ہال، راجپور، بڑوانی میں ضلع کوآرڈینیٹر سید رضوان علی کے تعاون سے کیا گیا۔
بڑوانی میں منعقدہ “سلسلہ” کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیرِ اہتمام منعقدہ ”سلسلہ اور تلاشِ جوہر“ کا بنیادی مقصد جہاں اردو زبان و ادب کا فروغ و تحفظ ہے، وہیں مقامی صلاحیتوں کو ایک بہترین پلیٹ فارم بھی فراہم کرنا ہے۔ حکومت مدھیہ پردیش کی یہ ایک متواتر اور خصوصی کوشش ہے کہ ریاست کے مختلف خطوں کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کی جائے۔
اسی سلسلے میں بڑوانی کی شاندار ادبی و ثقافتی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے منعقد کیا جانے والا یہ پروگرام مقامی قلم کاروں اور ادب نوازوں کے لیے ایک اہم اور یادگار موقع ہے۔ ”اردو شاعری میں ماحولیات“ جیسے معاصر اور اہم موضوع پر خطاب اور شعری نشست یقیناً علم و ادب کے تئیں معلومات افزا اور حوصلہ بخش ثابت ہوگی۔”
بڑوانی ضلع کے کوآرڈینیٹر سید رضوان علی نے بتایا کہ سلسلہ کے تحت شام 4:00 بجے ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت بڑوانی کے استاد شاعر عبدالقادر حنفی نے کی۔ وہیں مہمان خصوصی کے طور پر اسماعیل شیخ اور مہمانان ذی وقار کے طور پر فیروز شیخ، جاوید قریشی اور قیوم خان اسٹیج پر جلوہ افروز رہے ۔ اس موقع پر خصوصی مقرر ڈاکٹر کے آر شرما نے “اردو شاعری میں ماحولیات” موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ماحولیات انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔ صاف ستھری ہوا، مصفا پانی، ہریالی اور قدرتی توازن کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اردو شاعری میں بھی فطرت اور ماحولیات کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ شعرائے کرام نے پھولوں، درختوں، ندیوں، پہاڑوں، چاند، سورج اور موسموں کی خوبصورت عکاسی کر کے فطرت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
اردو شاعری محض عشق و محبت اور جذبات تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ یہ حسنِ فطرت اور اس کے تحفظ کا پیغام بھی دیتی ہے۔ متعدد شعراء نے باغ، گلشن، بہار اور دریا جیسے استعاروں اور علامتوں کے ذریعے ماحولیات کی خوبصورتی کو بیاں کیا ہے۔ وہیں کچھ شعراء نے فطرت کی تباہی اور انسانی غفلت پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
آج جب آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور ماحولیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) جیسے سنگین مسائل بڑھ رہے ہیں، تب اردو شاعری ہمیں فطرت سے محبت کرنا اور اس کی حفاظت کرنا سکھاتی ہے۔ شاعری کے ذریعے لوگوں میں ماحولیات کے تئیں بیداری پیدا کی جا سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماحولیات اور اردو شاعری کا رشتہ انتہائی گہرا ہے۔ فطرت اردو شاعری کو حسن و جمال بخشتی ہے، جبکہ شاعری ہمیں ماحول کی اہمیت کا احساس دلانے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں ماحولیات کی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ فطرت کا یہ حسین روپ ہمیشہ قائم رہے۔”
شعری نشست میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا، ان کے نام اور اشعار درجِ ذیل ہیں:
خود کی دنیا میں اجالا تو بہت اس نے کیا
کیسے ہوتی ہے غریبوں کی سحر بھول گیا
— قادر حنفی
شکل و صورت سے تو ہوشیار بہت لگتا ہے
پھر بھی وہ آدمی لاچار بہت لگتا ہے
— شجاع الدین ‘بیباکی
کون دیتا ہے کسے دوسرا موقع، لیکن
میں نے اک شخص سے دو بار محبت کی ہے
— واجد حسین ‘ساحل
دیکھ کر شجرہ کسی کا کرو گے کیا صاحب؟
پرورش کیسی ہے، لہجے ہی بتا دیتے ہیں
— سید رضوان علی
نہیں جھکتا جو باطل کے مقابل
میں اس سر کی ہی رفعت جانتا ہوں
— وشال ترویدی ‘عادل
وہ ایک شخص چھوڑ گیا عمر بھر کا درد،
ہم جی رہے ہیں آج بھی اس کی کمی کے ساتھ
— فیضان شیخ ‘قیس
ہم جستجوئے یار میں بھٹکے ہیں دربدر
اک دید کی طلب میں کہاں سے کہاں گئے
— سمیر خان
کمی والد کی دیکھو کرنے پوری
بڑے بھائی کو دیکھا جا رہا ہے
— حافظ احمد حافظ
نہ موت آ رہی ہے نہ مزہ جینے کا رہا
یوں بھی ڈسا ہے عشق کے زہریلے ناگ نے
— شاکر شیخ
تیرے پہلو میں بیٹھا تھا میں جو پل
وہی پل میری پوری زندگی ہے
— سید زبیر علی
پروگرام کی نظامت کے فرائض واجد حسین ساحل نے بحسن خوبی انجام دیے۔ پروگرام کے آخر میں ضلع کوآرڈینیٹر سید رضوان علی نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔