رائسین:22؍مئی: (پریس ریلیز) ضلع کی جنپد پنچایت غیرت گنج کے احاطے میں جمعہ کے روز سانچی اسمبلی حلقہ کے رکنِ اسمبلی اور مدھیہ پردیش حکومت کے سابق کابینی وزیر ڈاکٹر پربھورام چودھری نے اپنی ودھایک فنڈ سے غیرت گنج بلاک کی سات گرام پنچایتوں کو فائر ٹینکر تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے تحصیل علاقے میں بڑھتے ہوئے پینے کے پانی کے بحران کے تعلق سے متعلقہ افسران کے ساتھ ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ بھی منعقد کی۔تقریب میں گرام پنچایت کڑھیا، ٹیہری، بیلنا گڑھی، سانکل، مڑیا کھیڑا اور ہنوتیا محل پور کے سرپنچوں اور سیکریٹریوں کو فائر ٹینکر حوالے کیے گئے۔ رکنِ اسمبلی ڈاکٹر پربھورام چودھری نے کہا کہ پنچایتوں کو فراہم کیے جا رہے یہ فائر ٹینکر انجن سے لیس ہیں، جو پینے کے پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آگ بجھانے کے کام میں بھی نہایت کارآمد ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں شادی بیاہ، سماجی و مذہبی تقریبات اور دیگر عوامی مواقع پر پانی کی مناسب فراہمی یقینی بنانے میں یہ ٹینکر اہم کردار ادا کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے دیہی عوام اور پنچایت نمائندوں سے اپیل کی کہ ان وسائل کا صحیح استعمال اور بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مسلسل فائدہ پہنچتا رہے۔جنپد پنچایت دفتر میں منعقدہ جائزہ میٹنگ کے دوران ڈاکٹر پربھورام چودھری نے پی ایچ ای محکمہ، جل نگم اور جنپد پنچایت کے افسران کو سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پینے کے پانی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جہاں ہینڈ پمپ خراب ہیں انہیں ترجیحی بنیادوں پر درست کیا جائے، جبکہ جن علاقوں میں پائپ لائن توسیع کی ضرورت ہے وہاں فوری طور پر نئی پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کیا جائے تاکہ غیرت گنج تحصیل میں پینے کے پانی کا بحران پیدا نہ ہونے پائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر پانی سے متعلق مسائل کے حل کی مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔
اس موقع پر جنپد پنچایت صدر وجے پٹیل، نگر پریشد صدر جنیش کمار منٹو سنگھئی، غیرت گنج دیہی منڈل صدر منوج پٹھیا، دیہگاؤں منڈل صدر ویر سنگھ پٹیل، نگر پریشد نائب صدر اشوک ٹھاکر، شیر سنگھ یادو، جنپد رکن دریاؤ سنگھ پٹیل، انوِبھاکیہ افسرِ مال آئی اے ایس انکِت کمار جین، چیف ایگزیکٹو آفیسر پوجا جین، کارپالک مجسٹریٹ نریش سنگھ راجپوت، آر ای ایس محکمہ کے اے ای نریش ٹھاکرے، پی ایچ ای محکمہ کے ستیش بارپیٹا سمیت متعدد جنپد اراکین، سرپنچ اور سیکریٹری حضرات موجود رہے۔