نئی دہلی19مئی: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت اقلیتی فلاحی منصوبوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مسلسل اپ ڈیٹ اور بہتر بنا رہی ہے۔ انہوں نے تمام ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اقلیتی بہبود سے متعلق اپنی تجاویز جلد از جلد مرکز کو روانہ کریں تاکہ منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے منعقدہ ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت مختلف منصوبوں میں ضروری تبدیلیاں کرتی رہتی ہے تاکہ ان کا فائدہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی جانب سے تجاویز میں تاخیر کی وجہ سے کئی مرتبہ عمل درآمد متاثر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ریاستیں بروقت تجاویز بھیجیں۔ حج کے معاملے پر بعض سیاسی جماعتوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ حج پر جانے والے مسلمان اپنی ذاتی رقم خرچ کرتے ہیں اور حکومت ہند اس کے لیے کوئی مالی امداد فراہم نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لیڈران سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، جو مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حج کا پورا خرچ عازمین خود برداشت کرتے ہیں۔ کرن رجیجو نے اقلیتوں کی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوستان کی مسلم آبادی کو ایک الگ ملک تصور کیا جائے تو وہ دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پارسی برادری کی آبادی تقریباً باون سے ترپن ہزار کے درمیان ہے، جو ایک بڑے گاؤں کے برابر ہے، لیکن دونوں طبقات کو اقلیتی درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک روزہ کانفرنس قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے نئی دہلی میں منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے کام کاج کا جائزہ لینا اور اقلیتی برادریوں کے لیے جاری فلاحی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔
امریکہ میں مسجد پر حملہ، برطانوی وزیراعظم کا اہم بیان
لندن،19 مئی (یواین آئی ) برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سان ڈیاگو میں مسجد پر حملے کی مذمت کرتا ہوں ہماری ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔ کیئر اسٹارمر نے بیان میں کہا کہ اندازہ ہے کہ برطانوی مسلمان اس واقعے سے تشویش میں مبتلا ہوں گے واقعے نے مسلمانوں کو مسجد جاتے ہوئے بھی حفاظتی حوالے سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تشدد اور اس طرح کے واقعات اچانک پیدا نہیں ہوتے، نفرت، تقسیم، اسلام مخالف رویوں کو معمول بنانے سے ایسے واقعات ہوتے ہیں یہ ناقابلِ برداشت ہے ہمیں سب کو مل کر اس کےخلاف کھڑا ہونا ہو گا۔









