رائسین: 18؍مئی(پریس ریلیز)ضلع رائے سین کے قصبہ غیرت گنج کے درمیان سے گزرنے والا دریائے بینا، جو کبھی اس علاقے کی شناخت، عقیدت اور ماحولیاتی توازن کی مضبوط بنیاد سمجھا جاتا تھا، آج اپنے وجود کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ مٹی، گاد اور تعمیراتی ملبے کے مسلسل جمع ہونے سے دریا کی گہرائی میں تیزی سے کمی آئی ہے، جس کے باعث اس کی آبی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔ شہریوں، ماحولیات کے ماہرین اور سماجی کارکنان نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دریائے بینا کا سائنسی انداز میں فوری گہرای کا کام کرایا جائے۔
سو سے زائد دیہات کی پیاس بجھانے والا دریا
دریائے بینا کا منبع غیرت گنج کے قریب واقع ویل گڑھ علاقہ ہے۔ یہی دریا آگے چل کر مشہور راحت گڑھ آبشار کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ غیرت گنج اور اطراف کے سو سے زائد دیہات کے زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں بھی یہ دریا نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے دریا کے تحفظ اور گہرای پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں پورا علاقہ شدید آبی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔
تعمیراتی ملبے نے قدرتی بہاؤ کو متاثر کیا
شہریوں کے مطابق سڑک تعمیر کے دوران بڑی مقدار میں مٹی اور ملبہ دریا میں ڈال دیا گیا، جس سے اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا۔ چند برس قبل تک دریا کی اوسط گہرائی تقریباً دس فٹ تھی، مگر اب کئی مقامات پر یہ کم ہو کر صرف تین سے چار فٹ رہ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق دریا پر بنائے گئے اسٹاپ ڈیم کی تکنیکی خامیاں بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ ڈیم میں شٹر نہ ہونے کے باعث گاد اور ملبہ مسلسل جمع ہو رہا ہے، جس سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔
سائنسی گہرای سے زیرِ زمین پانی ہوگا بہتر
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دریائے بینا کا سائنسی بنیادوں پر گہرائی کا کام کیا جائے تو سال بھر وافر مقدار میں پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ اس سے کنوؤں، ہینڈ پمپوں اور بورویلوں کو قدرتی طور پر ریچارج ہونے میں مدد ملے گی اور اطراف کے علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر برقرار رہے گی۔ گرمی کے موسم میں پینے کے پانی کے بحران میں کمی آئے گی جبکہ کسانوں کو بھی خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔
بارش میں جل بھراؤ اور سیلاب کا بڑھتا خدشہ
دریائے بینا بارش کے پانی کی نکاسی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ دریا کے اتھلا ہونے اور قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آئندہ برسات میں جل بھراؤ اور سیلاب جیسی صورتحال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے عوامی زندگی اور املاک دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
شہریوں کا فوری کارروائی کا مطالبہ
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دریا میں ڈالے گئے ملبے کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور دریائے بینا کا جلد از جلد سائنسی گہری کرایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دریائے بینا محض ایک آبی دھارا نہیں بلکہ غیرت گنج کی دھڑکن اور آنے والی نسلوں کی آبی سلامتی کی بنیاد ہے۔