تہران11مئی: ایران نے امریکی حملوں کو اپنے خلاف ’مسلط کردہ جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسے لڑنے پر مجبور کیا گیا تو وہ دفاع کے لیے ہر قدم اٹھائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران ایک طرف سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن قومی مفادات کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ جہاں ضرورت ہوگی وہاں سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا، لیکن اگر ایران پر جنگ تھوپی گئی تو ملک اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق سفارت کاری کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور تہران ہر معاملے میں اپنے قومی مفاد کو ترجیح دے گا۔ انہوں نے اس امن تجویز کا بھی ذکر کیا جسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا تھا۔ بقائی نے کہا کہ ایران کی پیش کردہ مانگیں مکمل طور پر معقول اور جائز تھیں۔ ان کے مطابق تہران صرف یہ چاہتا ہے کہ جنگ ختم ہو، اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں، سمندری راستوں میں رکاوٹیں بند ہوں اور امریکی دباؤ کے تحت منجمد کی گئی ایرانی دولت واپس کی جائے۔ ایرانی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت یقینی بنانا اور ایران و لبنان میں امن قائم کرنا تہران کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ تجاویز پورے خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے پیش کی گئی تھیں، لیکن امریکہ اب بھی یکطرفہ دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے۔









