نئی دہلی 11مئی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار (10 مئی) کو ملک کی عوام سے اپیل کی کہ آئندہ ایک سال تک وہ سونا نہ خریدیں، غیر ملکی سفر میں کمی کریں اور پٹرول کم خرچ کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ورک فراہم ہوم کی بھی بات کی۔ ان کی اس اپیل پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’جب غریبی میں آٹا گیلا ہو رہا ہے تب مودی جی ملک کو بچت کرنے کا پاٹھ پڑھا رہے ہیں۔‘‘ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس صدر مزید لکھتے ہیں کہ ’’28 فروری کو جب مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہوئی تب کانگریس پارٹی نے ہر پہلو کو نمایاں کیا تھا۔ جیسے معیشت کی بربادی، روپے کی مسلسل گراوٹ، پٹرول-ڈیزل-ایل پی جی کی قیمت اور قلت، کسانوں کے لیے کھاد کی کمی، فوڈ سیکورٹی پر منڈلاتا خطرہ، دوائیوں کی قیمت، ایم ایس ایم ای کا بحران اور بہت کچھ!!‘‘ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی سے کچھ تلخ سوالات بھی کیے کہ ’’وزیر اعظم مودی جی انتخابی تشہیر میں کیوں مشغول تھے؟ کیوں روڈ شو کر رہے تھے؟ کیوں کہہ رہے تھے کہ صورتحال قابو میں ہے، سب چَنگا سی؟‘ ‘ملکارجن کھڑگے مزید لکھتے ہیں کہ ’’اب جب انتخابات ختم ہو گئے ہیں تو ملک کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ یہ مت کریے، وہ مت خریدیے، اس کی بچت کیجیے، ورک فرام ہوم کیجیے…!‘‘ کانگریس کے قومی صدر کا کہنا ہے کہ ’’اپنی 12 سالہ ناکامی کا ٹھیکرا ملک کی عوام پر مت پھوڑیے مودی جی!









