نئی دہلی 11مئی:سومناتھ امرت مہوتسو کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت بھارت کو جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے 1998 کے پوکھران ایٹمی تجربات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان تجربات نے پوری دنیا کے سامنے بھارت کے مضبوط سیاسی عزم اور خودمختار فیصلے کی طاقت کو ظاہر کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے سومناتھ مندر میں خصوصی مہا پوجا، کمبھابھیشیک اور دھوجا روہن کی رسومات میں شرکت کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے عالمی دباؤ، پابندیوں اور تنقید کے باوجود اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وزیر اعظم نے کہا ’’11 مئی 1998 کو بھارت نے پوکھران میں ایٹمی تجربات کیے تھے۔ اس کے بعد دنیا بھر سے مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں، اقتصادی راستے بند کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن بھارت ڈرنے والا ملک نہیں ہے۔ ہم ایک مختلف مٹی سے بنے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود بھارت اپنے فیصلے پر قائم رہا اور 13 مئی کو ایک بار پھر ایٹمی تجربات انجام دیے گئے۔ انہوں نے کہا ’’اس اقدام نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت کا سیاسی عزم کس قدر مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت بھارت کو دبانے یا جھکانے کی ہمت نہیں رکھتی۔‘‘ وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں سومناتھ مندر کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت پر بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سومناتھ مندر کی دوبارہ تعمیر صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ بھارت کی تہذیبی آزادی اور ثقافتی خود اعتمادی کا اعلان تھا۔انہوں نے کہا’’اگر 1947 میں بھارت نے سیاسی آزادی حاصل کی تھی تو 1951 میں سومناتھ مندر کی دوبارہ پران پرتشتہ نے بھارت کی تہذیبی آزادی کا اعلان کیا تھا۔‘‘ مودی نے کہا کہ تاریخ میں کئی حملہ آوروں نے سومناتھ مندر کو نشانہ بنایا، لیکن وہ بھارت کے ایمان اور ثقافت کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا ’’حملہ آوروں نے سومناتھ کو صرف پتھروں کی عمارت سمجھا اور بار بار اسے تباہ کیا، لیکن ہر بار یہ دوبارہ تعمیر ہوا۔ یہی بھارت کی روحانی طاقت کی علامت ہے۔‘‘









