حیدرآباد 10مئی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ ورک فرام ہوم کو فروغ دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پٹرول اور ڈیزل کے محتاط استعمال پر زور دیا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ’’گزشتہ دو مہینوں سے ہمارے پڑوس میں اتنی بڑی جنگ چل رہی ہے، اس کا اثر پوری دنیا پر پڑا ہے اور ہندوستان پر تو اس کا اور بھی سنگین اثر ہوا ہے۔‘‘ پی ایم مودی حیدرآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان کے پاس بڑے بڑے تیل کے کنویں نہیں ہیں۔ ہمیں اپنی ضرورت کا پٹرول، ڈیزل اور گیس بڑی مقدار میں دنیا کے دوسرے ممالک سے منگوانا پڑتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں پٹرول، ڈیزل، گیس اور فرٹیلائزر کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ وہ آسمان کو بھی پار کر گئی ہیں۔‘‘ حیدرآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے کورونا کے وقت ورک فرام ہوم کیا، آن لائن میٹنگز کیں، ویڈیو کانفرنسز کیں… ایسی کئی سہولیات تیار کیں اور ہمیں ان کی عادت بھی ہو گئی تھی۔ آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان سہولیات کو دوبارہ شروع کریں، تو یہ ملک کے مفاد میں ہوگا اور ہمیں انہیں دوبارہ ترجیح دینی ہوگی۔‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’’آج جو بحران ہے، اس میں ہمیں غیر ملکی زرِ مبادلہ بچانے پر بھی بہت زور دینا ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں پٹرول اور ڈیزل اتنا زیادہ مہنگا ہو گیا ہے، اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی خریداری پر جو غیر ملکی زرِ مبادلہ خرچ ہوتا ہے، پٹرول ڈیزل بچا کر ہمیں وہ زرِ مبادلہ بھی بچانا ہے۔