بھوپال 10مئی: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ صوبے میں ہر قسم کی صنعتوں کے قیام پر زور دیا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کو ترجیح دیتے ہوئے کسانوں، خواتین، غریبوں اور تمام طبقات کی فلاح کے لیے سرگرم ہے۔ سیاحت اور مویشی پروری کے شعبوں میں صوبہ اہم کامیابیاں حاصل کرے گا۔ گنا علاقے میں قائم ہونے والی سیمنٹ فیکٹری سے ڈیڑھ ہزار افراد کو روزگار ملے گا۔ اڈانی گروپ کی جانب سے 32 ہیکٹیئر زمین پر قائم ہونے والی اس یونٹ سے 4 ملین ٹن سیمنٹ کی پیداوار ہوگی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو اتوار کو ضلع گنا میں امبوجا سیمنٹ فیکٹری کے سنگ بنیاد پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور روزگار کے مواقع کو نئی رفتار دینے کے مقصد سے مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد اور افتتاح بھی کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ان ترقیاتی کاموں سے ضلع گنا میں بنیادی سہولیات میں اضافہ ہوگا اور عوام کو بہتر خدمات حاصل ہوں گی۔ گوالیار اور چمبل کا علاقہ کبھی ڈاکوؤں کی گولیوں کی آواز سے گونجتا تھا، لیکن اب یہاں ترقی کا پرچم لہرا رہا ہے۔ اب ڈاکوؤں کی جگہ ترقی اس علاقے کی پہچان بن گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک بدل رہا ہے۔ حکومت مسلسل عوامی مفاد میں کام کر رہی ہے۔ گنا علاقے کے لیے آج ہولی اور دیوالی جیسا خوشی کا ماحول ہے۔ اس خطے میں آبپاشی، پانی، بجلی اور دیگر شہری سہولیات میں اضافہ کیا گیا ہے، اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ایک وقت تھا جب اس علاقے کی ترقی کے لیے سندھیا خاندان نے پہل کی تھی۔ اب مرکزی اور ریاستی حکومت مل کر ترقی کو رفتار دے رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مرکزی وزیر مسٹر سندھیا کی تجاویز کو قبول کرتے ہوئے تین اہم اعلانات کیے۔ ان میں گنیا ندی کی بحالی کے لیے 80 کروڑ 22 لاکھ روپے کی تجویز کو بھارت سرکار کی جل شکتی یوجنا میں بھیجنا، لکشمن کوپرا سے رام نگر ٹکوڈیا تک آمد و رفت آسان بنانے کے لیے پاروتی ندی پر 42 کروڑ روپے کی لاگت سے پل کی تعمیر، اور گنا شہر کے بھجاریا تالاب کی خوبصورتی کے لیے 25 کروڑ روپے کی منظوری شامل ہے۔ مرکزی وزیر مواصلات و شمال مشرقی خطہ ترقیات مسٹر جیوتیرادتیہ سندھیا نے کہا کہ صوبے کی ترقی کے لیے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو محنت اور لگن سے کام کر رہے ہیں۔ گنا کی ترقی کے لیے نئی روشنی جل رہی ہے۔ مرکزی وزیر مسٹر سندھیا نے کہا کہ گنا میں سیمنٹ یونٹ کا قیام ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ کام طویل عرصے سے متوقع تھا۔ انہوں نے تقریباً سو سال قبل سندھیا خاندان کی جانب سے اس علاقے میں صنعت کاری کے لیے کی گئی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ مسٹر سندھیا نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت صنعتوں کے قیام کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے، جس سے گنا کے نوجوانوں کو دوسرے صوبوں میں روزگار تلاش کرنے نہیں جانا پڑے گا۔ خواتین کو بھی لکھپتی دیدی بنا کر خوشحالی سے جوڑا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر مسٹر سندھیا نے کہا کہ کوٹا-بینا ریلوے لائن کی ڈبلنگ، تاتیا ٹوپے یونیورسٹی کے آغاز، آبی فراہمی اور آبپاشی منصوبوں کے نفاذ، گنا سے دیواس قومی شاہراہ کی توسیع پر 5 ہزار کروڑ روپے کے اخراجات، اور گنا کے لیے 15 کلومیٹر لمبے بائی پاس جیسے کام عوام کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ زرعی شعبے میں گنا-چاچوڑا-راغھوگڑھ علاقے کے کسان پنجاب کی طرح اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں صنعتی شعبہ مضبوط ہو رہا ہے : مسٹر پرنو اڈانی
صنعت کار مسٹر پرنو اڈانی نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی کوششوں سے ترقی کو نئی رفتار ملی ہے۔ بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات کے ذریعے صوبے میں صنعتی شعبے کی مضبوطی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ پی ایم گتی شکتی مشن سے صنعتی ماحول مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال بھوپال میں منعقدہ گلوبل انویسٹرز سمٹ میں اڈانی گروپ کے چیئرمین مسٹر گوتم اڈانی نے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا تھا، جسے عملی شکل دینے کے لیے اس سیمنٹ یونٹ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں ایک ہزار 60 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جو آئندہ مراحل میں تین گنا سے زیادہ ہو جائے گی۔ مسٹر اڈانی نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں کٹنی، کیمور اور دیگر علاقوں میں سیمنٹ اور دوسری صنعتوں کے قیام کی پہل کی گئی ہے۔ گروپ کی جانب سے توانائی کے شعبے میں بھی منصوبے نافذ کیے جائیں گے۔









