حیدرآباد 9مئی:مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے جس میں ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے ’جن گن من‘ کے مساوی قانونی تحفظ دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ اویسی نے کہا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب، دیوی یا دیوتا کے نام پر قائم نہیں ہے اور نہ ہی ملک کو کسی مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ مرکزی کابینہ نے حال ہی میں ایک تجویز کو منظوری دی ہے جس کے تحت ’وندے ماترم‘ کو بھی وہی قانونی تحفظ حاصل ہوگا جو اس وقت قومی ترانے ’جن گن من‘ کو حاصل ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ ’جن گن من‘ ہندوستان اور اس کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، نہ کہ کسی خاص مذہب کی۔ ان کے مطابق مذہب اور قوم ایک چیز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ ایک دیوی کی مدح میں لکھا گیا گیت ہے، اس لیے اسے قومی ترانے کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ اویسی نے مزید کہا کہ ہندوستانی آئین کی تمہید ’’ہم، ہندوستان کے لوگ‘‘ سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ ’’بھارت ماتا‘’ کے نام سے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین ہر شہری کو سوچ، اظہار، عقیدے اور عبادت کی آزادی دیتا ہے۔
ان کے مطابق ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے جہاں کسی ایک مذہبی تصور کو قومیت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔









