ممبئی: 08؍مئی :(پریس ریلیز) یارانِ اردو ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ٹرسٹ ممبئی کے زیرِ اہتمام معروف شاعر، ادیب اور نغمہ نگار ظفر گورکھپوری کی یاد میں ایک پروقار، یادگار اور کامیاب مشاعرہ 5 مئی 2026 شام 7 بجے انجمن اسلام سی۔ایس۔ٹی کے احمد ذکریا ہال میں منعقد کیا گیا۔ ظفر گورکھپوری کی ۹۱ویں یومِ ولادت کے موقع پر منعقد ہونے والی اس ادبی تقریب میں اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور انہیں شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔ محفل کا ماحول ابتدا ہی سے شعری و ادبی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا اور سامعین آخر تک شعر و سخن کی لطافتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
یارانِ اردو کے صدر ڈاکٹر پرنسپل اسلم شیخ نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مہمانان، شعراء اور سامعین کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ظفر گورکھپوری نے اپنی تخلیقی بصیرت، فکری بالیدگی اور عصری شعور کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد اور روشن مقام حاصل کیا۔ اظہارِ خیال کرتے ہوئے زبیر اعظمیٰ (صدر اردو مرکز)، شعیب ہاشمی (سی ای او مہاراشٹرا اردو اکیڈمی)، سرفراز آرزو (مدیرِ اعلیٰ روزنامہ ہندوستان)، نظام الدین رائن، فرید خان، عبد القیوم، فضاء خالد اختر اور دیگر مقررین نے ظفر گورکھپوری کی ادبی، شعری اور فلمی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، انسانیت، تہذیبی اقدار اور اردو زبان کی لطافت کو فروغ دیا اور نئی نسل کے لیے فکری و ادبی رہنمائی کا سامان فراہم کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد ظفر گورکھپوری کی ادبی و شعری خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر ہارون افروز نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض سیمابؔ انوار نے نہایت شائستہ، دلنشیں اور برجستہ انداز میں انجام دیے۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں پدم شری ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی (صدر انجمن اسلام)، مشتاق انتولے (سینئر نائب صدر انجمن اسلام) اور اقبال میمن شریک رہے۔
مشاعرے میں سینئر شعراء ریاض منصف، پروفیسر جمیل کامل، ہارون افروز، حسن نیّر اور ضیاء باغپتی نے اپنے فکر انگیز اور دلنشیں کلام سے سامعین کو متاثر کیا، جبکہ نوجوان شعراء میں ارشاد عرش، وارث جمال، ذیشان ساحر، کیف حسین بنارسی، طاہر انصاری، عدنان اختر اعظمی، عاطف گونڈوی اور سیف احمد سیف نے اپنے تازہ، خوبصورت اور پُراثر اشعار سے محفل کو نئی تازگی بخشی۔ شعراء کے منتخب اشعار پر سامعین کی جانب سے بار بار داد و تحسین کی صدائیں بلند ہوتی رہیں اور احمد ذکریا ہال دیر تک “واہ واہ” اور “مقرر، مقرر ” کی آوازوں سے گونجتا رہا۔
تقریب کے اختتام پر امتیاز گورکھپوری نے اظہارِ تشکر ادا کرتے ہوئے تمام مہمانان، شعراء، سامعین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یارانِ اردو مستقبل میں بھی اردو زبان و ادب کے فروغ، ادبی روایت کی آبیاری اور نئی نسل کو ادب سے جوڑنے کے لیے ایسی معیاری اور یادگار تقریبات کا انعقاد کرتا رہے گا۔