بھوپال: 2مئی:موتی مسجد بھوپال میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ رب العزّت کا بے انتہا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اور آپ کو اپنے گھر میں حاضری اور نماز جمعہ ادا کرنے کی توفیق بخشی ۔ میرے محترم بزرگو اور دوستو اسلام نے ہمیں تین ایسی تعلیمات دی ہیں جو اسلامی تعلیمات میں سب سے بنیاد ہیں ۔نمبر ایک’توحید’ دوسرے نمبر پر رسالت اور تیسرے نمبر پر آخرت ۔ یاد رکھئے تمام انسانوں سے عام طور پر اور ایمان والوں سے خاص طور پر کہنا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام نے دعوت دی اور آخر میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے 13 سال تک مکہ میں اور اس کے بعد مدینے میں توحید و رسالت اور آخرت کی تعلیمات پر خاص توجہ دی ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ توحید و رسالت آور آخرت کا علم اور اس کے مطابق عمل ایک مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے ۔اس کے بغیر خطرات ہی خطرات ہیں ۔میرے محترم توحید کا مطلب ہے اللہ کو ایک ماننا اور اس کی تمام صفات میں اسے یکتا اور تنہا جاننا ۔ میرے ایمان والے بھائیو ابھی تک غنیمت ہے کہ اللہ کو ایک مانا جارہا ہے مگر افسوس اللہ کی صفات میں سیکڑوں لوگوں کو شریک مان لیاگیا ہے ۔اج کسی سے اولاد مانگی جارہی ہے ۔کسی سے مشکل دور کرنے کی دعا مانگی جارہی ہے ۔کسی سے رزق مانگا جارہا ہے تو کسی سے مصائب و مشکلات سے نجات دینے کی منتیں کی جارہی ہیں ۔گویا کئی ذیلی خدا گڑھ لئے گئے ہیں ۔
قاضی شہر نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ قرآن وسنت میں توحید کی اتنی روشن اور بین تعلیمات ہیں کہ ہر شخص کو دو اور دو چار کی طرح سمجھ میں آ جائے پھر بھی اللہ کی صفات میں مخلوق کو شریک ٹہرانے والے سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔اسامی تعلیمات میں ملاوٹ کرنے والے لوگ اسی راہ پر چل رہے ہیں جس راہ پر چلتے ہوئے اہل مکہ حضور کی تعلیمات کو جھٹلاتے تھے کہ وہ ہمارے شریک خداؤں سے مدد مانگنے کو براکہتے ہیں ۔اہل مکہ اللہ کی صفات میں جس طرح غیر خدا کو شریک جان کر اسے اپنے ایمان کا حصہ جانتے تھے بدقسمتی سے آج بھی ایمان کا دعویٰ کرنے والے ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو خدائی صفات میں غیر خدا کو شامل کرنا اپنے ایمان کا کمال سمجھتے ہیں ۔محترم حاضرین یہ شیطانی فریب ہے جو اللہ کے بندو ں کو شرک پر ایمان کا لبادہ ڈال کر ایسے ایسے کام کرواتا ہے جس کی قرآن وسنت میں صراحت کے ساتھ ممانعت آئی ہے ۔شرک توحید کی ضد ہے ۔توحید اور شرک ایک ساتھ جمع ہوہی نہیں سکتے۔لہذا ہمیں ہر لمحہ اپنے ایمان کی جانچ کرتے رہنا چاہئے کہ اس میں شرک کی آمیزش تو نہیں ہورہی ہے ۔اس کائنات میں اللہ ہی ذات واحد ذات ہے جس کی ذات اور صفات کا کوئی ثانی نہیں ۔ہمیں اپنے ساتھ اپنے اہل خانہ کے ایمان کی بھی فکر کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے ایمان کا سارا دارومدار توحید و رسالت اور آخرت پر دل سے یقین اور اس پر عمل کرنے میں ہے ۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ موجودہ زمانہ شرک و بدعت اور کفر و الحاد کی زد میں ہے ۔ہر طرف شرک و بدعت کی بارش ہے جو لوگوں کو آلودہ کررہی ہے ۔ایسے حالات میں اپنے ایمان کو بچائے رکھنے کی زمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے ۔ایمان ہی ہمارا سرمایہ حیات اور آخرت کی بیش بہا پونجی ہے ۔ایمان بچ گیا تو سمجھ لیجئے ہم اپنا مقصد تخلیق بچانے میں کامیاب رہے اور اگر ایمان شرک سے آلودہ ہوگیا تو اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں جو ہمیں بچالے ۔کیوں کہ اللہ نے ایمان والوں کو پہلے ہی تاکید کررکھی ‘سمندر کی جھاگ کے برابر بھی اگر گناہ کیا تو میں چاہوں تو معاف کردوں گا مگر شرک کسی حال میں معاف نہیں کروں گا ‘ اللہ ہم سب کی شرک و بدعات سے حفاظت فرمائے اور راسخ العقیدہ مسلمان بناکر اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق بخشے (آمین)۔









