بھوپال:02؍مئی:وزیر خوراک ،سول سپلائی اور صارفین تحفظ مسٹر گووند سنگھ راجپوت نے بتایا ہے کہ ابھی تک 6 لاکھ 91 ہزار کسانوں سے 34 لاکھ 73 ہزار میٹرک ٹن گیہوں کی خریداری کی جا چکی ہے۔ اب تک 14 لاکھ 64 ہزار کسانوں نے گیہوں حصولیابی کے لیے سلاٹ بک کروائے ہیں۔ کسانوں کے مفاد میں گیہوں حصولیابی کی مدت 9 مئی سے بڑھا کر 23 مئی 2026 تک کر دی گئی ہے۔ ہر خریداری مرکز پر تول کے کانٹوں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 6 کر دی گئی ہے اور تول کانٹوں کی تعداد بڑھانے کا اختیار اضلاع کو دیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی این آئی سی سرور کی صلاحیت اور تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ محکمہ خوراک کی جانب سے فی گھنٹہ سلاٹ بکنگ اور خریداری کی نگرانی کی جا رہی ہے۔وزیر مسٹر راجپوت نے بتایا کہ کسانوں کو 5462.42 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ حصولیابی مراکز پر کسانوں کی سہولت کے لیے پینے کا پانی، بیٹھنے کے لیے سایہ دار جگہ اور عوامی سہولیات وغیرہ کے انتظامات کئے گئے ہیں ۔کسانوں کی پیداوار کا وزن وقت پر ہو سکے، اس کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس میں بار دانہ (بوری)، تول کانٹے، حمال تلاوٹی ،سلائی مشین، کمپیوٹر، نیٹ کنکشن، معیار جانچنے کے آلات، پیداوار کی صاف صفائی کے لیے پنکھا، چھلنی وغیرہ کا انعقاد کیاگیاہے۔ حصولیابی مراکز پر دستیاب سہولیات کی تصاویر بھارت سرکار کے PCSAP پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے ۔
کسانوں سے 2585 روپے فی کوئنٹل کم از کم معاون قیمت (MSP) اور ریاستی حکومت کی جانب سے 40 روپے فی کوئنٹل بونس سمیت 2625 روپے فی کوئنٹل کی شرح سے گیہوں حصولیابی کی جا رہی ہے۔ معاون قیمت پر گیہوں حصولیابی کے لیے ضروری باردانوں کا انتظام کیا جا چکا ہے۔









