ممبئی: 29؍اپریل (پریس ریلیز) سلام شیخ: گزشتہ دنوں ممبئی کے خلافت ہاؤس اور حرف و آواز فاونڈیشن کے زیرِ اہتمام محمد ایوب قریشی کی کتاب جس کا عنوان اپنے آپ میں منفرد اور دلکش ہے۔ تعلیم،تربیت اور تجارت (ایک بہترین کل کی بنیاد) کا اجراء ممبئی کے تاریخی مقام خلافت ہاؤس میں کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ شاہنواز تھانہ والا نے اسٹیج پر بیٹھے مہمانان کا پُرجوش انداز میں ان کا تعارف پیش کرتے ہوئے استقبال کیا۔
رسمِ اجراء کے صدر پدم شری صدرِ انجمن اسلام ڈاکٹر ظہیر قاضی تھے۔ ساتھ ہی ممبئی شہر کے معزز اور معتبر شخصیات جن میں علمی،ادبی، سماجی،سیاسی، تجارتی شخصیات اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ کتاب کے ناشر امتیاز گورکھپوری(کتاب پبلیکیشن) نے بہت ہی بہترین انداز میں کتاب کے ہر مرحلے پر روشنی ڈالتے ہوئے یومِ کتاب پر اپنی بات اختصار میں کہی۔ تاریخی عمارت خلافت ہاؤس کی آخری تقریب کے بعد ایک مرتبہ پھر سے خلافت ہاؤس ایک بہترین نئے طرزِ انداز میں عمارت تعمیر ہوگی۔ تقریب کے دوران روزنامہ ہندُستان کے مدیر سرفراز آرزو اپنی تقریر کے وقت جذباتی ہوتے ہوئے نم آنکھوں سے خلافت ہاؤس کو دوبارہ نئی عمارت بنانے میں آنے والی دشواری کو پیش کیا، اسٹیج پر بیٹھے تمامی علمی، ادبی سیاسی، سماجی اور تجارتی شخصیات نے ان سے وعدہ کیا کہ آپ گھبرائیں نہیں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں انشاءاللہ خلافت ہاؤس ایک مرتبہ پھر تاریخ دہرائے گا۔
روزنامہ انقلاب کے مدیر شاہد لطیف نے صاحبِ کتاب کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ شاندار اور منفرد کتاب ہے۔ اکثر ہم لوگوں کے پاس بیشمار شعری و افسانوی مجموعے، ادبی کتابیں ہمارے ٹیبل پر رکھی رہتی ہیں۔ آج جس کتاب کا اجراء ہونے جارہا ہے، ایک نایاب کتاب کے ساتھ دستاویزی بھی ہے۔ اسے ہر گھر میں پڑھا جانا چاہیے اور نسلِ نو کے لئے بہت مفید ہے۔ ایوب قریشی نے کتاب کو تین بنیادی حصوں میں بہت ہی بہترین انداز میں ترتیب دیا ہے۔ دوران تقریر شاہد لطیف صاحب نے ایوب قریشی کو آواز دی اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کیا کہ کتاب کا خیال کیسے آیا؟ ایوب قریشی نے بتایا کہ کرونا وبا کے دوران میرے والد کا انتقال ہوا۔ ہم لوگ بہت پریشان تھے۔ اس دوران مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے بچوں کے لئے کچھ ایسا لکھوں یا ایسی باتیں ان کے علم میں لاؤں جس سے ان کی زندگی میں بہترین تبدیلی آئے۔ میں نے لکھنا شروع کیا اور لکھتے لکھتے میرے قریبی ادیب دوستوں سے مشورہ کیا جس سے مجھ میں ایک توانائی آئی اور دل سے بات نکلی کہ جو میں پسند کرتا ہوں کیوں نہ وہ میں میرے بھائیوں کے لئے بھی کروں، اور پھر لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا اور کتابی شکل منظر عام پر آگئی۔ اللہ اسے قبول کرے۔ اردو اکیڈمی کے چئیرمین سید حسین اختر نےکہا کہ بہترین کتاب کے لئے مبارکباد دیتا ہوں اور آئندہ ایڈیشن کے وقت اردو اکیڈمی معاونت کرے گی۔
آسام کے سابق ایم پی مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ خلافت ہاؤس کے اس تاریخی عمارت میں قدم رکھتے ہوئے بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں یہاں سے آزادی کی لڑائی لڑی گئی تھی ساتھ ہی ایوب قریشی کی کتاب پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب ایک بہترین کل کی بنیاد ہے۔ اس کتاب میں دینی اقدار اور عصری تقاضوں کے درمیان بہت گہری بات ہے۔ اس کتاب کو ہر مدرسوں، اسکول، کالج ہر وہ جگہ یہ کتاب پہنچنی چاہیے جہاں ضروری ہے۔ ایوب قریشی کو دعوت دیتا ہوں آپ آسام آئیے وہاں سو سے زائد ادارے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بہت سے موضوعات میرے دل میں اتر گئے ہیں اور ان اہم موضوع پر تقریبا ۲۱ کتاب پر میرا کام چل رہا ہے۔ یہ کتاب زندگی کے اہم ستون کو یکجا کرتی ہے اور معاشرے کے مستقبل کو سنوارنے کا کام کرتی ہے۔ اس کتاب کو ہندی، انگریزی، مراٹھی اور بھی دیگر زبانوں میں شائع کرنا چاہیے۔
پدم شری ڈاکٹر ظہیر قاضی صاحب نے اپنے صدارتی خطبے میں صاحب کتاب کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب کے علاوہ یہ زندگی کی گائیڈ بھی ہے جو ہمارے مسئلے کی رہنمائی کرتی نظر آرہی ہے، اس کا انگریزی ایڈیشن ضرور لائیں اور اس کا اجراء ہم انجمن اسلام سی ایس ٹی، باندرہ اور اردو میونسپل اسکولوں میں کیا جائے گا اور انگریزی ایڈیشن کے لئے پچاس فیصد خرچ انجمن دے گا۔ معزز شخصیات میں روزنامہ ہندُستان کے مدیر سرفراز آرزو، رونامہ انقلاب کے مدیر شاہد لطیف، اردو اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر، سابق ایم پی آسام بدرالدین اجمل، پدم شری ڈاکٹر ظہیر قاضی،ڈاکٹر قاسم امام، ٹائمز آف انڈیا کے صحافی وجیہی الدین، ایم ایل اے آمین پٹیل، نظام الدین راعین، یوسف ابراہانی، کے علاوہ کثیر تعداد میں معزز سامعین نے شرکت کی۔ یوسف دیوان نے بہت ہی بہترین نظامت کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا بہترین تعارف پیش کیا ایک بہترین شعر کے ساتھ انہیں آواز دی۔ عبدالمتین خان نے رسمِ شکریہ ادا کیا۔ امتیاز گورکھپوری نے اعلان کیا کہ شاندار اور کامیاب اجراء میں ساری کتابیں فروخت ہوگئی، بہت جلد دوسرا ایڈیشن منظر عام پر آئے گا، ساتھ ہی تقریب کا اختتام عمل میں آیا اور بہترین عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔