بھوپال 11اپریل:مرکزی وزیرِ دفاع مسٹر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کی سرحد پر فوجی اور کھیتوں میں کسان دونوں کی یکساں اہمیت ہے۔ دونوں ہی اپنی مٹی کی خدمت میں پوری جان لگا دیتے ہیں۔ کسان ہمارے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ہماری طاقت ہیں۔ ان کے بغیر ہماری تھالی ادھوری ہے۔ کسانوں کی مسکراہٹ ہی ہماری اصل دولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیتی باڑی ایک بڑا خطرناک پیشہ ہے، اس کے باوجود ہمارے کسان پوری محنت اور لگن سے ملک کے لوگوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ وہ خود ایک کسان کے بیٹے ہیں، اس لیے کسانوں کے دکھ درد اور ضروریات سے واقف ہیں۔ کسانوں کی فلاح ہمارا مقصد ہے اور ان کی بہتری کے لیے ہم پُرعزم ہیں۔
پردھان منتری کسان سمان ندھی کسانوں کی فلاح کے لیے ایک مضبوط قدم ہے۔ اس کے تحت ہر اہل کسان کے بینک کھاتے میں 6000 روپے براہِ راست منتقل کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ کھاد، بیج اور دیگر ضروری سامان خرید سکیں۔ یہ کسانوں کی محنت کا احترام ہے۔ اب تک حکومت ہزاروں کروڑ روپے کی مدد کسانوں کو دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں، غریب، خواتین، نوجوان اور کھیتی باڑی کی بہتری کے لیے ہماری کوششیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ مسٹر سنگھ ہفتہ کو رائسن کے دشہرہ میدان میں منعقدہ “اُنتت کرشی مہوتسو-2026سے خطاب کر رہے تھے۔
مرکزی وزیرِ دفاع مسٹر سنگھ، وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور مرکزی وزیرِ زراعت و دیہی ترقی مسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے تین روزہ زرعی مہوتسو کی نمائش اور تربیتی پروگرام کا باضابطہ افتتاح چراغ روشن کر کے کیا۔ مرکزی وزارتِ زراعت اور ریاستی حکومت کے زرعی محکمے کے اشتراک سے منعقدہ اس پروگرام میں کسانوں کی مدد کے لیے مٹی کی جانچ والا سوائل موبائل ایپ ای-فارم لانچ کیا گیا۔ اس ایپ کی مدد سے کسان خود اپنی زمین کی مٹی کی صحت کی جانچ کر سکیں گے۔ پروگرام میں نروائی مینجمنٹ، کسٹم ہائرنگ اور دیگر سرکاری اسکیموں کے 10 مستفید کسانوں کو فوائد فراہم کیے گئے۔ اس موقع پر زرعی ترقی پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔ یہ مہوتسو 13 اپریل تک جاری رہے گا۔ مرکزی وزیرِ دفاع مسٹر سنگھ نے مدھیہ پردیش کی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی مضبوط قیادت میں ریاست تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائسن کی زرخیز زمین پر منعقد یہ زرعی مہوتسو کسانوں کی تقدیر اور ان کی مالی حالت بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس مہوتسو میں کسانوں کو سرکاری اسکیموں، درمیانی افراد سے آزاد بازار، ویئر ہاؤسنگ اور کولڈ اسٹوریج کے قیام سے متعلق معلومات دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے کسانوں کی محنت قابلِ تقلید ہے اور یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی دل جیت لیتی ہے۔مرکزی وزیرِ دفاع مسٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں حکومت نے کسانوں کے لیے بے مثال کام کیے ہیں۔
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کسانوں کے لیے ایک تحفہ ہے جس کے تحت قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کی جاتی ہے۔ حکومت نے کسانوں کو مٹی کے صحت کارڈ فراہم کیے ہیں جس سے وہ جان سکتے ہیں کہ کون سی فصل بہتر ہے اور کتنی کھاد درکار ہے، اس سے لاگت کم ہوئی ہے۔ دیہات میں سڑکیں، پانی، بجلی اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور منڈیوں کو آن لائن کیا گیا ہے تاکہ کسان گھر بیٹھے اپنی پیداوار بیچ سکیں۔ حکومت نے فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور فنڈز کی کمی کبھی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیرِ دفاع ضرور ہیں لیکن دل سے ایک کسان بھی ہیں۔

قدرتی اور نامیاتی کھیتی سے پیدا شدہ پھل اور سبزیوں سے فوجیوں کی صحت بہتر ہوئی

مرکزی وزیرِ دفاع مسٹر سنگھ نے بتایا کہ وزارتِ دفاع نے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے فوجی چھاؤنیوں کے آس پاس کے کسانوں سے قدرتی کھیتی سے پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے فوجیوں کی صحت بھی بہتر ہوئی ہے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ باہر سے اشیاء منگوانا بند کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے کسانوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے۔ وزارتِ دفاع نے شری اَنّ (ملٹس) کو بھی فروغ دیا ہے جس سے کسانوں کو مناسب قیمت مل رہی ہے۔

مرکزی وزیرِ دفاع مسٹر سنگھ نے کہا کہ ملک کی معیشت کسانوں پر منحصر ہے۔ کسان نہ صرف اناج پیدا کرتے ہیں بلکہ معیشت، روزگار اور خدمات کو بھی آگے بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ زرعی شعبے سے جڑیں اور جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرون اور سینسرز کے ذریعے زراعت کو آگے بڑھائیں۔ مٹی کی جانچ، موسم کی پیشگوئی اور فصلوں کی نگرانی ٹیکنالوجی سے ممکن ہے۔ فوڈ پروسیسنگ کے ذریعے بھی کسان اپنی آمدنی بڑھا سکتے ہیں اور درمیانی افراد سے بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت میں بے شمار امکانات موجود ہیں، اگر نوجوان اس سے جڑیں تو یہ پیشہ باعثِ فخر بن سکتا ہے اور کسان خود کفیل ہو سکتے ہیں۔