بھوپال19اپریل: وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ زراعت صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری ثقافت اور روایت کا لازمی حصہ ہے۔ زراعت ہماری معیشت کی بنیاد ہے اور ریاست کی مجموعی ترقی کا اہم ستون بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج زراعت ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی، بے قاعدہ بارش، خشک سالی، سیلاب، مٹی کی کم ہوتی زرخیزی اور بازار کی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز ہمیں نئی سوچ اور جدت کی طرف بڑھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کے زرعی شعبے میں نئی توانائی آئی ہے۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مختلف اسکیموں کو وسعت دی گئی ہے، ٹیکنالوجی کو کھیتوں تک پہنچایا گیا ہے اور جدت کو عوامی تحریک کی شکل دی گئی ہے۔ ‘‘ڈرون دیدی’’ جیسی پہل کے ذریعے خواتین بھی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے جڑ رہی ہیں، جبکہ زرعی سخیوں کے ذریعے نامیاتی کھیتی، مٹی کی صحت کے انتظام اور جدید زرعی تکنیک کی معلومات کسانوں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ’کرشی مول جیونم‘کا مفہوم ہمارے معاشرے کی زندگی کے نظریے کو ظاہر کرتا ہے۔ زراعت بابرکت، مقدس اور زندگی کی بنیادی اساس ہے۔ اسی جذبے کو اپناتے ہوئے ‘‘خوشحال کسان-خوشحال مدھیہ پردیش’’ کے موضوع کے تحت پورے سال 2026 کو ریاست میں زرعی سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد کسانوں کو مستقبل کی زرعی تکنیک اپنانے کی ترغیب دینا اور زراعت کو منافع بخش، پائیدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی روزگار کے ماڈل میں تبدیل کرنا ہے۔وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت کسانوں کی زندگی آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال کر رہی ہے۔ ایگری اسٹیک اسکیم کے تحت کسانوں کا مکمل ڈیٹا ڈیجیٹل شکل میں دستیاب کرایا جا رہا ہے اور اس کے نفاذ میں مدھیہ پردیش ملک میں آگے ہے۔
ڈیجیٹل ڈیٹا کے ذریعے کسانوں کی زمین، فصل اور پیداوار سے متعلق معلومات ایک کلک پر دستیاب ہیں، جس سے سرکاری اسکیموں کا فائدہ تیزی سے کسانوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ موبائل اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے موسم، بازار کے نرخ اور فصل کے انتظام سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
زرعی تحقیق اور جدت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ زراعت کے میدان میں تحقیق اور جدت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کے نظریے کے مطابق ‘‘جے جوان-جے کسان’’ کے ساتھ ‘‘جے وگیان’’ شامل کیا گیا تھا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس میں ‘‘جے انوسندھان’’ کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت جدید ٹیکنالوجی، سائنسی کھیتی، زرعی مصنوعات میں قدر افزائی اور بہتر مارکیٹ روابط کے ذریعے کسانوں کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
ریاست میں جدید زرعی طریقوں اور فصلوں کی تنوع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کیمیائی مادوں سے پاک کھیتی، نامیاتی اور قدرتی زراعت کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ فصلوں کی باقیات (پرالی) کے سائنسی انتظام، منڈیوں کی جدید کاری اور زرعی مصنوعات کو آن لائن تجارتی پلیٹ فارم سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ انہیں عالمی سطح پر شناخت دلانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست میں زراعت کو سیاحت سے جوڑنے کی سمت میں بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ کسان خاندانوں کو اضافی آمدنی حاصل ہو اور شہری لوگوں کو دیہی ثقافت سے آشنائی کا موقع ملے۔ اس کے ساتھ فوڈ پروسیسنگ اور زرعی صنعت کو فروغ دے کر کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہتر قیمت دلانے اور ریاستی زرعی مصنوعات کو قومی و بین الاقوامی سطح پر شناخت دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں دودھ کی پیداوار کو 9 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈیری پلس پروگرام کے ذریعے دودھ کی پیداوار اور مویشی پروری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ زرعی سائنس مراکز کے ذریعے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج اور مہارت کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی سیٹلائٹ اور ڈرون سروے کے ذریعے فصلوں کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ ریاست میں فوڈ پروسیسنگ یونٹس کی توسیع، موٹے اناج کی پیداوار میں اضافہ، ماحول کے تحفظ کے لیے پرالی کے انتظام اور نامیاتی و قدرتی کھیتی کے فروغ کے لیے بھی وسیع پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔









