واشنگٹن، 7 اپریل (یواین آئی): ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کیلئے آئین کی 25ویں ترمیم کے استعمال کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی عوام اور سیاسی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ اقدامات ملک کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس کے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بعض قانون سازوں نے صدر کو عہدے سے ہٹانے کیلئے امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے استعمال کی تجویز دی ہے، جو صدر کی نااہلی کی صورت میں اختیارات منتقل کرنے کا آئینی طریقہ کار فراہم کرتی ہے۔
یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے، خصوصاً بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی سینیٹر کریس مرفی نے صدر کے اقدامات کو “انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کو 25ویں ترمیم کے استعمال پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح رکنِ کانگریس یاسمین انصاری اور میلانی اسٹینسبری سمیت متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے بھی صدر کی اہلیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ بحث مزید بڑھی تو امریکہ کے اندر سیاسی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔









