امبیکا پور، یکم اپریل (یو این آئی) ‘کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز 2026’ میں مردوں کے 79 کلوگرام فری اسٹائل زمرے میں گولڈ میڈل جیتنے والے جموں و کشمیر کے ہمام حسین نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ گھر گھر دودھ پہنچانے کی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ کشتی کی مشق جاری رکھ کر اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کر دیا۔جموں کے زور آور گاؤں کے رہنے والے 28 سالہ حسین کے لیے زندگی اور کھیل ہمیشہ ایک ساتھ چلے ہیں۔ پانچ سال قبل والد کے انتقال کے بعد خاندان کی پوری ذمہ داری ان کے اور ان کے بڑے بھائی کے کندھوں پر آ گئی۔ دونوں نے مل کر دودھ فروخت کرکے گھر چلایا اور اسی جدوجہد کے درمیان حسین نے کشتی سے اپنا رشتہ ٹوٹنے نہیں دیا۔ آخر کار یہ محنت رنگ لائی اور حسین نے ہماچل پردیش کے موہت کمار کو ہرا کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ یہ ان کے 14 سالہ کیریئر کا پہلا قومی سطح کا گولڈ میڈل ہے۔تمغہ جیتنے کے بعد حسین نے سائی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “میرے بڑے بھائی بھی پہلوان تھے اور ریاست کی سطح پر کھیل چکے ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد تمام ذمہ داریاں ہم پر آ گئیں۔ میرے بھائی کو کشتی چھوڑنی پڑی تاکہ وہ دودھ فروخت کرکے گھر چلا سکیں، اور میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتا تھا کیونکہ خاندان کا گزربسر ضروری تھا۔ لیکن میرے بھائی نے مجھے ہمیشہ کشتی جاری رکھنے کی ترغیب دی اور وہ مجھے دنگلوں میں لے کر جاتے تھے۔” حسین نے بتایا کہ ان کے والد کی چھوڑی ہوئی بھینسیں ہی خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ بنیں، اور جب انہوں نے مٹی کے اکھاڑے میں قدم رکھا تو انہیں اس کھیل سے عشق ہو گیا۔
محدود وسائل کے باوجود حسین نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ اپنے گاؤں سے تقریباً 20 کلومیٹر دور مٹی کے اکھاڑے میں مشق کرتے ہیں اور میٹ پر ٹریننگ کے لیے تقریباً 40 کلومیٹر دور جموں تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، سائی سینٹر جموں میں ہے اور ہم نچلے علاقے میں رہتے ہیں، اس لیے وہاں باقاعدگی سے جانا مشکل ہوتا ہے۔ ہم عام طور پر مقابلوں کے دوران ہی وہاں جاتے ہیں، ورنہ گاؤں کے اکھاڑوں میں ہی مشق کرتے ہیں۔ میرا کوئی ذاتی کوچ نہیں ہے، اکھاڑے میں سینیئر پہلوان ہی ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر گاؤوں میں شہروں جیسی سہولیات ملیں تو ان کے علاقے کے پہلوان قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید تمغے جیت سکتے ہیں۔حسین کے لیے یہ گولڈ میڈل صرف ایک جیت نہیں بلکہ برسوں کی قربانی اور لگن کی علامت ہے۔ انہوں نے اختتام کرتے ہوئے کہا، یہاں آ کر بہت اچھا لگا اور انتظامات بہترین تھے۔ ہم ایک پسماندہ علاقے سے آتے ہیں جہاں کشتی کے لیے زیادہ تعاون میسر نہیں ہے، اس لیے ہمیں دور دور تک جانا پڑتا ہے۔
یہ پہلی بار ہے کہ ہمارے لیے اس طرح کا مقابلہ منعقد کیا گیا ہے۔ اگر ایسے مزید ایونٹس ہوتے رہیں تو ہم مزید تمغے جیت سکتے ہیں۔









