بھوپال یکم اپریل: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے ریاستی حکومت وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی رہنمائی میں قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے۔ ریاست میں 1 سے 4 اپریل تک ” اسکول چلے ہم” مہم چلائی جائے گی اور بچوں کو اسکولوں میں داخلہ دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سرکاری اسکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی تعداد صفر کرنے پر محکمہ اسکول تعلیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں جماعت 1، 6 اور 9 میں داخلہ کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے، جس سے سال 2025-26 میں کل داخلوں میں 19.6 فیصد کا قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں بھی 32.4 فیصد ترقی درج کی گئی ہے۔ یہ سرکاری اسکولوں پر بڑھتے اعتماد کی علامت ہے۔ ریاستی حکومت نے موجودہ سیشن میں اسکولوں میں 1 کروڑ 45 لاکھ داخلے کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست میں 369 شاندار ساندیپنی اسکولوں کا آغاز کیا گیا ہے، جو ملک کے بہترین اسکولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے ساندیپنی اسکولوں میں طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے تمام سہولیات دستیاب ہیں۔ پی ایم شری اسکول بھی جدید تعلیمی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کو ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول بھوبال میں ریاستی سطح کے داخلہ اْتسو پروگرام-2026 کے افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے چراغ روشن کر کے پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس موقع پر بچوں کو مفت سائیکلیں اور درسی کتابیں تقسیم کیں اور انہیں روشن مستقبل کے لیے نیک تمنائیں دیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی آمد پر طلبہ نے سائیکلوں کی گھنٹیاں بجا کر اور اسکاوٹ گائیڈ دستے نے سازوں پر خوشگوار دھنوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے تقریب میں شامل طلبہ پر پھولوں کی بارش کر کے ان کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اٹل ٹنکرنگ لیب، روبوٹک لیب، پیشہ ورانہ تعلیم اور آئی سی ٹی لیب کے اسٹالز کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر ” اسکول چلے ہم” مہم پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کے ساتھ مفت سائیکل حاصل کرنے والے اسکولی بچوں کا گروپ فوٹو بھی لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا خیر مقدم کیا گیا۔
بچے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر، انجینئر اور کاروباری بنیں
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ “اسکول چلے ہم” مہم بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کی ایک اختراعی کوشش ہے۔ ریاست کے تمام 55 اضلاع کے ہر گاؤں کا ہر ایک بچہ اسکول میں داخلہ لے رہا ہے۔ محکمہ اسکول تعلیم نے یہ یقینی بنایا ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ ریاست میں بڑے پیمانے پر سرکاری اسکولوں کے تئیں والدین اور بچوں کی دلچسپی بڑھی ہے۔ ان میں ڈراپ آؤٹ ختم کرنے کے لیے اساتذہ کے ساتھ معاشرے کے ہر طبقے نے عزم کے ساتھ محنت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بچوں کو اسکول آنے جانے کے لیے مفت سائیکلیں تقسیم کی گئی ہیں۔ آئندہ 3 سے 4 مہینوں میں سرکاری اسکولوں کے 4 لاکھ بچوں کو سائیکلیں ملیں گی۔ طلبہ کے لیے مفت یونیفارم، کتابیں اور کھانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ہمارے بچے ڈاکٹر، انجینئر اور کاروباری بنیں، ان کے روشن مستقبل کے لیے اسکولی تعلیم کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے 76 ہزار 325 اساتذہ کی بروقت تقرری کی گئی ہے۔
ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپ اور اسکول ٹاپر کو اسکوٹی دی جا رہی ہے
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت 49 کتابیں ہندی اور مقامی زبانوں میں تیار کر کے قبائلی علاقوں میں طلبہ کو تقسیم کی جا رہی ہیں۔ ریاست میں درج فہرست ذات کے طلبہ کے لیے 95 ہزار گنجائش والے 1913 ہاسٹل چلائے جا رہے ہیں۔ قبائلی امور محکمہ کے 25 ہزار 439 اسکولوں میں آج 20 لاکھ سے زیادہ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت ہر طبقے کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہے۔ سال 2025-26 کی بورڈ امتحانات میں 75 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے 94 ہزار 306 ذہین طلبہ کو مفت لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں لیپ ٹاپ کے لیے 250 کروڑ روپے، اسکوٹی کے لیے 100 کروڑ روپے اور سائیکل تقسیم کے لیے 210 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ بورڈ امتحان کے اسکول ٹاپر طلبہ کو اسکوٹی کا تحفہ دیا جا رہا ہے۔