بھوپال22؍مارچ:(اسٹاف رپورٹر) راجدھانی بھوپال کی ڈھائی سو مساجد میںالوداع کے جمعہ کی نماز نہایت اہتمام کے ساتھ فرزندان توحید نے ادا کی اوربھوپال شہر نیز اطراف کے لاکھوں بندگانِ خدا نے اس میں شرکت کی۔ جامع مسجد، تاج المساجد، موتی مسجد، مسجدبلقیس جہاں وغیرہ میں آج نمازی صبح گیارہ بجے سے پہونچناشروع ہوگئے تھے اورخطبہ کی اذان سے قبل مذکورہ مساجد نمازیوں سے بھرگئیں تھیں، الوداع کے جمعہ کی نماز کے بڑے بڑے اجتماعات پرانے بھوپال کی مسجد حضرت پیر صاحب مسجد ابراہیم پورہ،مسجد بیت الحمد،اسٹیشن والی مسجد،محمدی مسجد، مسجدکلثوم بیاصاحبہ کے علاوہ جہانگیرآباد، ٹی ٹی نگر،بھیل اورنئی بستی کرود،اشوکاگارڈن، بھیل وغیرہ میں بھی نظرآئے۔ جن میں ایک انداز کے مطابق چھ لاکھ کے قریب فرزندان توحید نے شرکت کی۔ اسی کے ساتھ ماہ مبارک رمضان کاآخری عشرہ بھی اپنے اختتام پرپہونچ گیا ہے۔ آج رمضان کاآخری جمعہ تھا ویسے تو پورے رمضان مہینہ میں ہی مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد کافی بڑھ جاتی ہے لیکن جمعۃ الوداع کوخاص طورسے جمعہ کی نماز اداکرنے والوں کاہجوم ایک سیلاب کی شکل اختیار کرلیتاہے، آج بھی شہر کی تمام اہم مساجد میں نمازیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ جگہ کم پڑگئی اورلاکھوں بندگان خدا نے رمضان کے آخری جمعہ پر خدا کے حضور نماز اداکرکے اپنے گناہوں کی معافی تلافی کی اوررمضان کے دوبارہ لوٹ کرآنے کی دعاکی۔ نمازیوں کی سب سے زیادہ بھیڑ جامع مسجد میں دیکھی گئی۔ جامع مسجد کے بعد بھوپال ہی نہیں ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد تاج المساجد میں لوگوں نے نماز اداکی۔ تاج المساجد اپنی وسعت کے باوجود نمازیوں سے بھری نظرآئی۔ اسی طرح شہر کی دیگر مساجد میں بھی نمازیوں کی تعداد کودیکھتے ہوئے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ جمعۃ الوداع کی وداعی کے ساتھ ہی عیدالفطر کی تیاری بھی اختتام پرہے، لوگ اب اپنے کپڑے وغیرہ کے علاوہ دیگرسامان خریدنے میں جٹ گئے، چونکہ درزیوں نے کپڑے لینا بندکردیے ہیں،اس لئے اکثر لوگ اب ریڈی میڈ کپڑے اور جوتے چپل وغیرہ خریدتے نظرآئے۔سنیچرکوانشاء اللہ شہرکے مسلمان عید کریں گے۔









