تہران ،19 مارچ (یواین آئی ) آسٹریلیا میں جاری سیاسی پناہ کے ڈرامائی معاملے کا بالاخر اختتام ہو گیا، جہاں ایران کی خواتین قومی فٹبال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں نے اپنی درخواستیں واپس لینے کے بعد وطن واپس پہنچ گیئں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یہ کھلاڑی ترکیہ کے راستے ایران کی سرحد میں داخل ہوئیں، جبکہ اس سے قبل انہوں نے ملائیشیا اور عمان کا طویل سفر طے کیا۔عالمی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں کھلاڑیوں کو اپنے مخصوص ٹریک سوٹس میں سرحد پار کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ایرانی تارکینِ وطن کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے ان میں سے تین کھلاڑیوں کی شناخت زہرا سلطانی مشککار، مونا حمودی اور زہرا سربالی کے ناموں سے کی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ٹیم کی کپتان زہرا غنبری بھی وطن واپس پہنچنے والوں میں شامل ہیں، تاہم پانچویں کھلاڑی کا نام تاحال صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔یہ پورا تنازع ایشیا کپ کے ابتدائی میچ کے دوران اس وقت شروع ہوا جب کھلاڑیوں نے ایرانی قومی ترانے کے دوران خاموش رہ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ اس اقدام کے بعد کھلاڑیوں کو خدشہ تھا کہ وطن واپسی پر انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں، جس کی بنیاد پر انہوں نے انسانی ہمدردی کے تحت آسٹریلیا میں رہنے کے لیے ویزا کی درخواستیں دی تھیں۔رپورٹس کے مطابق، پانچ کھلاڑیوں کی واپسی کے باوجود دو کھلاڑیوں نے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے آسٹریلیا میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کو آسٹریلوی حکام کی جانب سے پناہ دے دی گئی ہے اور وہ اب بطور منحرف افراد وہیں قیام پذیر رہیں گی۔









