بھوپال، 18 مارچ: اسلامی تقویم میں رحمتوں و برکتوں والا مہینہ رمضان المبارک اب رخصت ہونے کو ہے۔ کل بروز جمعرات 29 واں روزہ ہوگا، جس کے پیشِ نظر کل شوال کا چاند نظر آجاتا ہے تو جمعہ 20 جولائی کو عید الفطر منائی جائے گی، بصورتِ دیگر 30 روزے مکمل ہونے کے بعد سنیچر 21 جولائی کو عید سعید کا تہوار منایا جائے گا۔ شہر قاضی مولانا سید مشتاق علی ندوی کی قیادت میں بروز جمعرات بعد نمازِ مغرب موتی مسجد میں رویتِ ہلال کمیٹی کی اہم میٹنگ ہوگی، جس میں موصول ہونے والی شہادتوں کی بنیاد پر قاضی صاحب عید الفطر کا باقاعدہ اعلان فرمائیں گے۔
عید الفطر کے قریب آتے ہی دارالحکومت بھوپال میں خریداری کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ شہر کے تمام اہم بازاروں میں گاہکوں کا زبردست ہجوم دیکھا جا رہا ہے۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانوں پر بچوں کے ملبوسات کی مانگ بڑھ گئی ہے، جبکہ بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر بسکٹ، کیک اور عید کی خاص سوغات شیر خورمہ و سویوں کی خریداری میں لوگ جوش و خروش سے مصروف نظر آ رہے ہیں۔ بازاروں کی گہما گہمی عید کی آمد کا واضح پیغام دے رہی ہے۔
دوسری جانب سید اویس علی انچارج سکریٹری مساجد کمیٹی، بھوپال نے نمازیوں کی سہولت کے لیے ایک خصوصی اپیل جاری کی ہے۔
اپیل کے مطابق عید گاہ میں عید کی نماز ادا کرنا سنت ہے۔ عید گاہ میں عید کی نماز کا وقت صبح 7.30 بجے رکھا گیا ہے۔ عید گاہ میں جانے والے حضرات سے گزارش ہے کہ فور وہیل / ٹو وہیل گاڑیوں سے آنے والے حضرات 7 بجے سے پہلے ہی عید گاہ پہنچنے کی کوشش کریں۔ تاکہ پیدل آنے والے حضرات کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی گاڑیوں کی پارکنگ کی ذمہ داری حکومت کے نمائندے اور مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے خدمت گاروں کو دی ہے، وہ اپنا کام بہت ذمہ داری اور خوبی کے ساتھ انجام دیتے ہیں اور گاڑیوں کو اپنی صحیح جگہ پر کھڑا کرواتے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ طے شدہ جگہ پر ہی گاڑیوں کو لگائیں تاکہ آخر تک آنے والے حضرات کو عید گاہ پہنچنے میں آسانی ہو۔ یہ سب آپ حضرات کی آسانی کے لئے کیا گیا ہے۔ عید گاہ آتے جاتے وقت خاموشی سے تکبیر پڑھتے ہوئے جائیں۔ عید گاہ میں داخل ہو تو شروع صفوں سے ہی بیٹھنا شروع کریں اور آنے جانے کے راستوں کو تنگ نہ کریں۔ نماز کے بعد جانے کی جلد بازی نہ کریں۔ نیز پریس نوٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ قاضی صاحب یا کمیٹی کی تصدیق کے بغیر عید کے چاند کی کسی بھی خبر پر آتش بازی نہ کی جائے اور نہ ہی گولے چلائے جائیں۔









