سڈنی، 14 مارچ (یو این آئی) بڑے ٹورنامنٹ اکثر قیادت کی باریکیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، اور آئی سی سی ہال آف فیمر رکی پونٹنگ نے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں کپتان سوریا کمار یادو کی قیادت میں انڈیا کے فاتحانہ سفر میں ایسی ہی کئی باریکیاں دیکھیں۔انڈیا اس ٹورنامنٹ میں فیورٹ کے طور پر داخل ہوا تھا، جس پر توقعات کا بھاری بوجھ تھا اور اسے اسکواڈ میں کھلاڑیوں کی فارم سے متعلق خدشات کا بھی سامنا تھا۔ خود کپتان سوریا کمار یادو کے لیے بطور بلے باز یہ ٹورنامنٹ کافی مشکل رہا؛ امریکہ کے خلاف پہلے میچ میں 49 گیندوں پر 84 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کے علاوہ، یادو نے باقی آٹھ اننگز میں مجموعی طور پر صرف 158 رنز بنائے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ٹیم کی اس وقت بہترین رہنمائی کی جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔آئی سی سی ریویو کے تازہ ایڈیشن میں گفتگو کرتے ہوئے پونٹنگ نے کہا کہ “کپتانی کا اصل پیمانہ وہ ہوتا ہے جو لیڈر میدان سے باہر کرتا ہے، وہ چیزیں جو لوگ نہیں دیکھتے اور وہ اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کس طرح میل جول رکھتا ہے۔” آسٹریلوی لیجنڈ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب ذاتی فارم خراب ہو تو ٹیم کی قیادت کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے، اور سوریا کمار نے اس صورتحال کا بخوبی سامنا کیا۔
پونٹنگ نے مزید کہا کہ “بطور کھلاڑی ان کا اپنا وقت کچھ خاص نہیں رہا، لیکن پھر بھی وہ آخر میں ورلڈ کپ کی ٹرافی تھامے کھڑے ہیں۔ ایک سابق کپتان کے طور پر میں جانتا ہوں کہ جب آپ اپنی بہترین بیٹنگ نہ کر رہے ہوں تو کپتانی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔پونٹنگ نے خاص طور پر دباؤ کا شکار کھلاڑیوں، جیسے ابھیشیک شرما اور سنجو سیمسن کے ساتھ سوریا کمار کے برتاؤ کا ذکر کیا۔ ابھیشیک شرما، جو آئی سی سی رینکنگ میں نمبر 1 ٹی 20 بلے باز ہیں، ٹورنامنٹ میں مسلسل ناکامیوں (تین بار صفر پر آؤٹ ہونا اور کم اسکورز) کا شکار رہے، لیکن فائنل جیسے بڑے اسٹیج پر انہوں نے اپنی فارم دوبارہ حاصل کی اور محض 18 گیندوں پر اس ایڈیشن کی تیز ترین ففٹی بنا کر مجموعی طور پر 21 گیندوں پر 52 رنز اسکور کیے۔پونٹنگ کے مطابق، “آپ کو ٹیم کے مستقل ارکان کی فکر نہیں ہوتی، بلکہ ان نوجوان کھلاڑیوں پر وقت صرف کرنا پڑتا ہے جو اپنی فارم اور جذبات سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔