ثروت زیدی (بھوپالی)8815086698
فروری 1960 کی ایک شام ۔ میرے گھر میں رنج و غم کا ماحول ہے ۔ آٹھ برس کا ایک معصوم سا لڑکا آنگن میں بیٹھا ہوا سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔ بزرگ آپس میں باتیں کر رہے ہیں کہ نواب بھوپال حمید اللہ خاں کا انتقال ہو گیا ہے ۔دالان میں خاموشی ہے ۔
یعنی 28 فروری 2026 شام کو پھر میں اپنے پرانے گھر کی طرف جارہا ہوں جو کئی برسوں سے مقدمے بازی میں الجھا ہوا ہے اور بند ہے ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ جنگ میں مزہبی رہنما رہبر، معزم سید علی خامنہ صاحب شہید ہو گئے ہیں عجیب خبر تھی دل بے چین ہو گیا پرانے محلے کی یادیں میرے ساتھ رہتی ہیں گھر پہنچا پرانے تالے کو بڑی مشکل سے کھولا اور اندر داخل ہو گیا ۔ ایسا لگا کہ آہ و بکا کی صدائیں گردش کر رہی ہیں ۔ رنج و الم میں ڈوبا ہوا سناٹا ۔ اکثر میں یہاں آیا کرتا ہوں ۔ کاغذ قلم اور کتابوں کے ساتھ ۔ لیکن آج محسوس ہوا کہ گھر کے بزرگ سب گردن جھکائے بیٹھے ہیں ۔ عورتیں بین کر رہیں ہیں ۔ بچے چاندنی پر اداسیوں میں غرق ہیں قرآن کی تلاوت ہو رہی ہے ۔ آنگن میں کھانے کی دیگیں چڑھی ہیں ۔ ایسا لگا جیسے 1960 کا زمانہ ہے ۔دادا دادی والدین بہن بھائی اور رشتیدار پلنگ اور تخت پر بیٹھے ہیں سب بھوپال کے فرمانرواؤں کیے متعلق گفتگو کر رہے ہیں ۔1820 سے اس گھر نے گوہرجہاں قدسیہ بیگم، نواب سکندر جہاں بیگم، نواب شاہجہاں بیگم اور نواب سلطان جہاں بیگم کا دور دیکھا ہے ۔ آخری نواب کے دور میں ہمارے بزرگوں نے بے نظیر محل میں برسوں گزارے ۔ایک ایک منظر خیال و فکر میں روشنی کی طرح صاف و شفاف نظر آیا ۔اور پھر اپنے بڑوں کے ساتھ ہم بھی احمدآباد پیلیس بھوپال پہنچے ۔ نواب صاحب کےجنازے کو دیکھا شاید اس طویل میدان میں دو تین چکر لگائے گئے ہونگے شہر کے ہزاروں لوگو نے کاندھا دیا ۔
آج پھر ایک اور شام اسی گھر میں جہانگیر یہ اسکول کے پاس ۔ آپس میں برسا برس سے مقدمے میں الجھے ہوئے لوگ ۔ ایک دوسرے کے کھڑکی دروازے بند ۔ دو سو سال پہلے سب یہاں آباد ہوئے تھے سات آٹھ پیڑھیاں بدل چکی ہیں ۔ علم ہے، ہنر ہے، نماز ہے، روزہ ہے۔ سب کچھ ہے، مگر عداوت اور رنجشیں کیوں ہیں کسی کو نہیں معلوم بس کورٹ میں ملاقات ہوتی ہے ۔ اپنے اپنے وکیل کی ٹیبل پر بزرگوں کے نام کی فائلیں ہمیں حسرت سے تکتی ہیں ۔
موبائل میں جنگ کے نقارے بج رہے ہیں ۔مغرب کی نماز کا وقت ہو چلا ہے توپ کے گولے کی آواز آئی ۔ اور سامنے سدا میاں مسجد میں روزہ کھولا اور نماز ادا کی ۔مسجد کی کھڑکی سے اپنے گھر کی طرف دیکھا ۔زہن میں بزرگوں کی دعائیں بازگشت کرنے لگی ۔ اے معبودِ بر حق ہماری رنجشیں ختم کر دے حق اور انصاف کی راہ ہموار کر ۔ مظلوم فلسطینیوں کی زندگی میں اجالے ہو جائیں ۔ مالک امن اور سکون نصیب ہو ۔ علم و حکمت دور اندیشی اور خود اعتمادی عطا کر ۔
سامنے املی کے درخت پر فاختائیں بسیرے کے لئے آ گئیں ہیں ۔مسجد میں کبوتروں نے رات گزارنے کے ٹھکانے تلاش کر لئے ہیں ۔
میں پانی کا گلاس لئے ہوئے گھر کی خستہ حال سیڑھیوں پر کچھ دیر کے لئے لکڑی کے دروازے سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا ۔
اسکو نکالنا ہے محبت کی راہ سے
دل میں کوئی تو جڑ ہے مسلسل فساد کی
کب تک لڑینگے لوگ مقدمے بتائیں
اب تو کمر بھی ٹوٹ چکی جائداد کی