بھوپال:21؍فروری:(پریس ریلیز) ڈاکٹر رفیق زکریا کالج فار ویمن کے پرنسپل ڈاکٹر مخدوم فاروقی اور وارثان حرف و قلم کے زیر سرپرستی نوکھنڈہ کیمپس میں عمائدین شہر و مشاہیر اہل قلم کے ہاتھوں ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی کی معرکۃ الآراء کتاب “عربی بول چال کے40 سبق” کی رسمِ اجراء عمل میں آئی۔رسم اجراء کی منعقدہ پروگرام کی صدارت شہر کی نامور ادبی شخصیت معروف افسانہ نگار مرزا اسلم نے کی جبکہ اردو ادب کے ممتاز نقاد اور دانشور اپنے متعینہ دئیے گئے عنوان “عصر رواں کا ادب وسائل ومسائل پرعلمی گفتگو کیلئے ڈاکٹر پروفیسر انتخاب حمید مدعو کئے گئے تھے۔
اسٹیج پر موجود جمیع مہمانانِ گرامی بشمول صدرِ محفل اور مقررِ خصوصی کے ہاتھوں کتاب کا اجراء عمل میں آیا۔ اس تقریب میں شہر کے نامور علماء ڈاکٹر مولانا محمد صدر الحسن ندوی مدنی اور ڈاکٹر مولانا عبدالرشید ندوی مدنی بطورِ خاص شریک تھے۔سب سے پہلے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مخدوم فاروقی اور وارثان حرف و قلم کے صدرمحمد وصیل نے کتاب کے مصنف ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی کی خدمت میں گلدستہ اور شال پیش کر کے استقبال کیا ۔پروگرام میں نظامت کے فرائض ادیب و صحافی ابوبکر رہبر نے انجام دئے۔
اس موقع پر کتاب کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ تصنیف بالخصوص عازمینِ حج و عمرہ اور شائقینِ عربی زبان کے لئے نہایت مفید اور آسان اسلوب میں تیار کی گئی ہے۔ اس کتاب میں روزمرہ عربی مکالمات، حرمین شریفین میں پیش آنے والی عملی صورتِ حال کے مطابق جملے، سفرِ حج و عمرہ کے دوران پیش آنے والی ضروری گفتگو، ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور خرید و فروخت سے متعلق عام بول چال کو سادہ انداز میں شامل کیا گیا ہے۔
مزید برآں اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تدریجی انداز میں عربی سکھانے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ مبتدی سے متوسط درجے کے طلبہ بھی بآسانی استفادہ کر سکیں۔ مختصر اسباق، عملی مشقیں، تلفظ کی سہولت اور خود سیکھنے کا نظام اس کتاب کو منفرد بناتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں عربی زبان کے بنیادی قواعد، ضروری الفاظ، اور جدید تقاضوں کے مطابق بول چال کی تربیت پر خاص توجہ دی گئی ہے، جس سے عام قارئین، شائقین عربی زبان طلبہ اور مسافروں کو حقیقی فائدہ حاصل ہوگا۔
کتاب کے اجراء کے موقع پر مقررین نے اس بات کا اظہار کیا کہ موجودہ دور میں عربی زبان کی ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر یہ کتاب ایک اہم اضافہ ہے اور حج و عمرہ کے سفر کو آسان اور بامقصد بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔آج کی اس رسم اجراء کی تقریب میں اہل علم وادب نقاد وانشاء پرداز ادباء وسخنور کی کثیر تعداد شریک تھی بالخصوص وارثان حرف و قلم کے روح رواں محرک فعال و متحرک خالد سیف الدین ،ڈاکٹر دوست محمد خان ،ڈاکٹر مسرت فردوس،ڈاکٹر ریحانہ بیگم ،ڈاکٹر حسینی کوثر ،ڈاکٹر نورالعین، ڈاکٹر غزالہ پروین، قاضی انیس ، لالہ اختر خان،خان مقیم خان ،عظیم راہی ابھرتے شاعر احمد اورنگ آبادی ،ندیم اللہ خان ،چشتی منتجب الدین کے علاوہ کثیر حاضرین نے مصنف کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس کتاب کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔