کامٹی ناگپور : 20/ فروری: گزشتہ اتوار کو رات ساڑھے اٹھ بجے کامٹی کی عبدالستار فاروقی اسکول میں منظم زکوۃ بیداری مہم کانفرنس کا اختتام ہوا۔ پروگرام کا آ غاز کرتے ہوئے ناظم جلسہ زاہد انور سر نے کہا کہ زکوۃ معاشرے میں معاشی استحکام کا بہترین ذریعہ ہے۔ ضمیر رشیدی نے کانفرنس کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ ہمارے یہاں حج کے لیے تربیتی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ عا زمین حج صحیح طور پر حج کا فریضہ انجام دے سکیں۔ اسی طرح نماز کے قائم کرنے کے لیے بہتر انتظامات مثلا مساجد کی تعمیر و توسیع ،امام کا تقرر ،وضو، روشنی، طہارت کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ زکوۃ کے لیے بھی بیت المال کا قیام، زکوۃ کی وصولی اور مستحقین تک پہنچانے کے لیے انتظامات کیے جائیں۔
پروفیسر اسرار احمد صاحب نےکہا کہ زکوۃ کا اجتماعی نظم نہ ہونے سے اور اسے متفرق طور پر تقسیم کر دینے سےمعاشرے میں مثبت تبدیلی نہیں آ رہی ہے۔اس موقع پر مقرر خصوصی جناب انوا ر صدیقی صاحب (سابق اسو سی ایٹ پروفیسر ،گورنمنٹ آ یوروید کالج)ناگپورنے کہا کہ منظم زکوۃ کو چھوٹے پیمانے سے شروع کر کے اچھے نتائج معاشرے کے سامنے لائے جا سکتے ہیں ۔نیز اچھی کارکردگی پیش کر کے عوام الناس کا اعتماد جیتنے کے بعد بیت المال کی کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ناگپور میں ڈاکٹر عزیز خان( سینیئر کارڈیالوجسٹ، ڈائریکٹر کریسنٹ ہاسپٹل) جناب فردوس (مرزا سینیئر ایڈوکیٹ، کالم نگار)، ڈاکٹر محمد فیضان (آ رتھوپیڈک سرجن)، جناب خواجہ اظہار احمد (ریٹائرڈ ایسو سی ایٹ پروفیسر) اور دیگر صاحبان کی سربراہی و نگرانی میں منظم زکوۃ کا کامیاب عملی نمونہ “زکوۃ سینٹر انڈیا” کے بینر تلے سامنے آ رہا ہے، جسے ملک بھر میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ اپنے صدارتی خطبے میں سابق جناب ممتاز احمد(سابق صدر مدرس، حسامیہ ہائی سکول ناگپور) نے کہا کہ جن علاقوں میں منظم زکوۃ کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہیں وہاں معاشی ترقی اور خوشحالی صاف طور پر نظر آرہی ہے ،لہذا ضروری ہے کہ امت مسلمہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں منظم زکوۃ کی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنائے۔ اخیر میں کمال اختر سلام سر نے ہد یہ تشکر پیش کیا۔