کولمبو 20 فروری ( یو این آئی)آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں کل (ہفتہ، 21 فروری) کو آر پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ دونوں ٹیمیں اپنے گروپس میں دوسرے نمبر پر رہنے کے بعد یہاں پہنچی ہیں اور سیمی فائنل کی دوڑ میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لیے فتح کے ساتھ آغاز کرنا چاہیں گی۔پاکستان ٹیم اس وقت بھرپور اعتماد میں نظر آ رہی ہے۔ گروپ اسٹیج میں ہندوستان کے خلاف واحد شکست کے علاوہ گرین شرٹس نے اپنے تمام میچز جیتے۔ سپر ایٹ سے قبل نمیبیا کے خلاف 102 رنز کی بڑی فتح نے ٹیم کے مورال کو مہمیز دی ہے۔ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے کے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر اور پاکستان کے جادوئی اسپن اٹیک کے درمیان ایک دلچسپ جنگ متوقع ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کولمبو کی سست پچ پر کیوی بلے بازوں کی اسپن کے خلاف حکمت عملی ہی میچ کے نتیجے کا فیصلہ کرے گی۔
ٹاپ آرڈر بلے باز صاحبزادہ فرحان نے نمیبیا کے خلاف محض 58 گیندوں پر ناقابلِ شکست 100 رنز بنا کر اپنی فارم کا اعلان کر دیا ہے۔شاداب خان (36 رنز اور 3 وکٹیں) اور سلمان آغا کی کارکردگی پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہی ہے۔ اسپنر عثمان طارق (4 وکٹیں) اور شاداب خان کی جوڑی نے حریف بلے بازوں کے لیے جال بچھا رکھا ہے، جس نے نمیبیا کو محض 99 رنز پر ڈھیر کر دیا تھا۔پاکستان کی ٹیم ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی کولمبو میں مقیم ہے اور پریماداسا میں دو میچز کھیل چکی ہے۔ ان کے اسپنرز عثمان طارق، ابرار احمد، شاداب خان اور محمد نواز یہاں کی پچ کی رفتار اور لینتھ سے بخوبی واقف ہیں۔ ۔اگرچہ ٹی 20 کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کو فیورٹ قرار دینا مشکل ہے، لیکن حالیہ فارم اور نمیبیا کے خلاف یکطرفہ جیت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا پلہ تھوڑا بھاری نظر آتا ہے۔ تاہم، نیوزی لینڈ کی ٹیم آخری گیند تک لڑنے کی شہرت رکھتی ہے، اس لیے ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم، جو ہمیشہ آئی سی سی ایونٹس میں خطرناک ثابت ہوتی ہے، پاکستان کے خلاف اپنی روایتی نپی تلی کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ کیویز کا مقابلہ پاکستان کے اسپن اٹیک سے ہوگا، جو کولمبو کی پچ پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔نیوزی لینڈ کی بیٹنگ اب تک صرف اوپنرز فن ایلن اور ٹم سیفرٹ کے گرد گھومتی نظر آئی ہے، جنہوں نے ایونٹ میں مجموعی طور پر تین نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔
تاہم، مڈل آرڈر میں شامل راچن رویندر، گلین فلپس اور ڈیرل مچل تسلسل برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔









