مظفرپور، 8 فروری: مظفرپور بہار کے کے مردم خیز بستی بتھنہا ڈیہ میں مکتب اسلامیہ دار الارقم کئی سالوں سے بحسن خوبی امت مسلمہ کے نونہال بچے بچیوں کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اس مکتب اسلامیہ دار الارقم کا سالانہ انعامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ممتاز مقام حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا، تقریبِ تقسیم انعامات کا پروگرام نہایت کامیاب رہا، جس میں قرآنِ کریم کی تلاوت، طلبہ کی تعلیمی و دینی پیش رفت پر انعامات کی تقسیم، اور مہمانِ خصوصی کی حوصلہ افزا تقاریر نمایاں تھیں۔ یہ باتیں منعقدہ جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے اس مکتب کے سرپرست ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی نے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک ہندوستان میں آئے دن حالات بدلتے جارہے ہیں،روز بروز مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچی جارہی ہے،ہرچہارسو زہریلی ہوائیں چلائی جارہی ہے،نئ نئ پالیسیاں وجود میں آرہی ہے،خفیہ تحریکیں چلائ جارہی ہے،چند سال قبل نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق جو بل پاس کیا گیا وہ بھی مسلمانوں سے دشمنی اور عداوت ہی کا حصہ ہے،اگرچہ دنیاوی اعتبار سے بل کے فوائد نظر آرہے ہیں، لیکن دینی اعتبار سے وہ مسلمانوں اور نئی نسل کے حق میں انتہائی خسران کا باعث اور مہلک دین وایمان ہے،جس کی بنیاد سراسر عقیدۂ توحید کے خلاف اور تعلیمات اسلامی کے بالکل برعکس ہے،اور اس کا واحد علاج مکاتب دینیہ کا قیام ہے، جو بقائے اسلام اور تحفظ دین وایمان کا ذریعہ ہے۔مکتب اسلامیہ دار الارقم کے اس روحانی و علمی مجلس میں والدین اور معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی، پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا،نظم و نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اس مکتب کے نگران اعلیٰ محمد آصف رحمانی نے پیش کی۔نظامت کے فرائض مولانا اخلاق الرحمٰن ندوی نے انجام دیے، جلسہ کی صدارت کے فرائض مولانا فیاض احمد صاحب مظاہری نے انجام دئیے۔
مکتب کے اس علمی و عملی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات میں انعامات، میڈل ٹرافی، کتاب اور خصوصی اعزازات تقسیم کیے گئے۔ مہمانِ خصوصی حضرت مولانا محمد آل حسن صاحب دامت برکاتہم العالیہ امام خطیب جامع مسجد کمپنی باغ مظفرپور نے طلبہ کی محنت کو خوب سراہا اور دینی تعلیم وتربیت کی اہمیت پر زور دیا۔اور آپ کی دعا پر ہی تقریب کا اختتام ہوا، جس میں مکتب کی ترقی اور طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ یہ تقریب طلبہ کے حوصلے بڑھانے اور انہیں مزید محنت کی ترغیب دینے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوئی۔اس جلسہ کو مولانا محمد نور الاسلام قاسمی، مفتی محمد اسعد اللہ قاسمی نے بھی اپنے قیمتی نصائح سے لوگوں کے قلوب کو منور وتاباں فرمایا۔مکتب کے منتظمین وممبران خاص طور پر شاہد مصطفیٰ، محمد شمس رضاء،احمد رضاء، محمد کاشف رحمانی مولانا ندیم قاسمی وغیرہ نے اس پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں ہر طرح کا تعاؤن پیش فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کے قیمتی اور خلوص بھرے تعاؤن اور کوششوں کو قبول فرمائے۔آمین۔واقعتااس طرح کے پرو گرام سے طلبہ،اساتذہ و ادارے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور منتظمین مزید دلجمعی سے کام کو آگے بڑھاتے ہیں۔
قسمت، محنت اور موقع جب ایک ساتھ آ جائیں، تو ہیرو راتوں رات جنم لیتے ہیں
ممبئی، 8 فروری (یو این آئی )تیز گیند باز محمد سراج چند گھنٹوں میں ایسے کرکٹ ہیرو بن کر ابھرے جن کا تصور خود انہوں نے بھی نہیں کیا تھا۔ جرمنی میں طویل تعطیلات اور اسپین میں ریئل میڈرڈ کا میچ دیکھنے کے منصوبے بنانے والے سراج کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ اگلے ہی دن وہ ہندوستان کی مشکل جیت کے سب سے بڑے معمار ہوں گے۔حیدرآباد میں دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے منصوبوں کے دوران جب ہندوستانی ٹیم کے ٹرینر ایڈرین لی روکس کا فون آیا تو سراج نے ڈسٹرب نہ کرنے کی درخواست کی۔
جمعہ کی رات تک ممبئی جانا ان کے منصوبوں میں شامل ہی نہیں تھا۔ مگر محض چوبیس گھنٹوں کے اندر وہ امریکی ٹیم کے خلاف ہندوستانی کی سنسنی خیز فتح کے غیر متوقع اسٹار بن گئے۔
سراج نے بتایا،اچانک سوریہ بھائی (کپتان سوریہ کمار یادو) کا فون آیا۔ انہوں نے کہا، ‘تیار ہو جاؤ، بیگ پیک کرو اور فوراً آؤ۔’ میں نے کہا، ‘سوریہ بھائی مذاق مت کیجیے۔’ لیکن انہوں نے کہا،میں سچ کہہ رہا ہوں۔’ فون رکھتے ہی سلیکٹر پرگیان اوجھا کا کال آیا اور مجھے زبردست جھٹکا لگا۔
چوٹیل ہرشیت رانا کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے کے لیے سراج کے پاس نہ تیاری کا وقت تھا، نہ ذہنی تیاری کا موقع۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔