بھوپال 2فروری: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ کسانوں کی آمدنی میں ہر ممکن طریقے سے اضافہ کرنا ہی ہمارا بنیادی ہدف ہے اور یہ صرف ان کی فصل کی پیداوار اور پیداواریت بڑھانے سے ہی ممکن ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے ایک کروڑ سے زائد کسانوں کے مفاد میں ’’خوشحال کسان – خوشحال ریاست‘‘ کے جامع ماڈل اور موضوع کے تحت ہم سال 2026 کو کسان بہبود سال (زرعی سال) کے طور پر منا رہے ہیں۔ اس دوران زرعی مصنوعات کے لیے مضبوط مارکیٹنگ نظام قائم کیا جائے گا، ساتھ ہی غذائی پراسیسنگ کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کو زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی اقسام اور بیجوں کی تقسیم، ڈیجیٹل اور جدید زرعی مشینری کو فروغ، قدرتی اور نامیاتی کاشتکاری کی حوصلہ افزائی، زرعی اسٹارٹ اپس اور ایف پی او جیسی زرعی بنیاد پر روزگار کی زنجیر کو فروغ، زراعت سے متعلق تمام شعبوں کو یکجا کرتے ہوئے ضلع سطح پر کلسٹرز کی ترقی، اور کاشتکاری میں فصلوں کے چکر میں تبدیلی یعنی تنوع کو فروغ دینا، زرعی سال کے اہم اہداف کے طور پر طے کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے گزشتہ روز کسان فلاح سال 2026 کے انعقاد کے خاکے سے متعلق منعقدہ میٹنگ میں یہ معلومات دی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کی فلاح ہمارے لیے ایک مشن ہے۔ اسی مقصد کے تحت زرعی سال کے دوران ریاست کے مختلف اضلاع میں زرعی کابینہ کے اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔ زرعی کابینہ کا آغاز نِمّاڑ علاقے سے کیا جائے گا۔ کسانوں کے مفاد سے متعلق تمام ضروری فیصلے فیلڈ میں منعقد ہونے والی زرعی کابینہ میں ہی لیے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ زراعت اور کاشتکاری سے ماحول میں بھی وسیع پیمانے پر بہتری آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نِمّاڑ علاقے میں زراعت سے بڑھتے فائدے اور دن بہ دن آبپاشی کی سہولتوں میں توسیع کے باعث دیگر کسان بھی کاشتکاری کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پورے نِمّاڑ علاقے میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے اور اس ہریالی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ پورے نِمّاڑ علاقے کا درجہ حرارت پہلے کے مقابلے چار ڈگری کم ہو گیا ہے۔ یہ کامیابی ہمیں کسانوں کی بہتری کے لیے مزید کوشش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ زرعی سال کے دوران ریاست کے کسانوں کے لیے زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال پر خاص توجہ دی جائے گی۔ یہ طے کیا جائے گا کہ کسانوں کو تمام اقسام کے فوائد ایگری اسٹیک کے ذریعے ہی فراہم کیے جائیں۔ اس کے لیے کسانوں کے بینک کھاتوں کو سمگر آئی ڈی کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ ساتھ ہی موبائل اور کیو آر کوڈ پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال سے زرعی ان پٹس کی دستیابی اور ان کی نگرانی بھی یقینی بنائی جائے گی۔زرعی سال کے دوران حکومت کا ایک مقصد دودھ کی پیداوار میں اضافہ کر کے اسے موجودہ سطح سے دوگنا کرنا بھی ہے۔
اس مقصد کے لیے ریاست کے مویشی پروروں کو جدید مویشی پروری کی نئی تکنیکیں سیکھنے کے لیے برازیل بھیجا جائے گا۔ ریاست کے مویشی پرور جدید تکنیک کے ذریعے مویشی پالیں گے اور نئی طریقہ کار اور نظام کے تحت اعلیٰ نسل کے جانوروں سے دودھ کی پیداوار کے لیے تیار کریں گے۔ نئی تکنیک سے مویشی پروروں کی دودھ کی پیداوار اور آمدنی دونوں میں اضافہ ہوگا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ زرعی سال کے دوران کسانوں کو زیادہ سے زیادہ خدمات اور سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس دوران محکمہ مال ایسے کسانوں کی فہرست تیار کرے گا جو کسی وجہ سے اب تک کے سی سی سی کے حامل نہیں ہیں، اور یہ فہرست قریبی پرائمری کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹیوں یعنی پیکس کو فراہم کی جائے گی۔ پیکس کمیٹیاں کسانوں سے رابطہ قائم کریں گی، اہل کسانوں سے مقررہ فارمیٹ میں درخواستیں حاصل کریں گی اور بینک سطح پر کے سی سی کی منظوری کی کارروائی بھی مکمل کریں گی۔ منظور شدہ معاملات کو یکجا کر کے کیمپ منعقد کیے جائیں گے اور کسانوں کو کے سی سی تقسیم کیے جائیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ اس وقت ریاست میں 4500 سے زائد پیکس کمیٹیاں کام کر رہی ہیں اور تقریباً 23 لاکھ سے زائد کسان براہ راست ان کمیٹیوں سے وابستہ ہیں









