زبانی محبت کے دعوے آج کل بہت سستے ہو گئے ہیں۔ ہر شہر میں’’آل انڈیا مشاعرہ‘‘کے بینر لہرا رہے ہیں، اسٹیج جگمگا رہے ہیںاور سوشل میڈیا پر اشتہار و بینر وائرل ہو رہے ہیں—مگر جس زبان کے نام پر یہ محفل سجتی ہے، وہ خود اس محفل سے باہر کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہے۔ یہ کیسا تماشا ہے کہ محفل اُردو کی ہو اور دروازے پر اس کا نام تک درج نہ ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے مشاعرے کو ثقافتی فیشن بنا دیا ہے اور اُردو کو محض جذباتی نعرہ بنا کر چھوڑ دیا ہے۔ پوسٹرغیر اُردو میں شائع ہو رہا ہے، تعارفی کارڈ انگریزی میں، سوشل میڈیا پر رومن کا استعمال کر رہے اور درمیان میں کہیں کونے میں اُردو کا ایک لفظ بطور’’رسمی حاضری‘‘لگا دیا جاتا ہے، تاکہ ضمیر بھی مطمئن رہے اور تصویر بھی مکمل لگے۔ یہ رویہ اُردو کے ساتھ محبت نہیںہے،بلکہ اُردو کے ساتھ دوہرا رویہ ہے۔
سوال یہ نہیں کہ دوسری زبانیں کیوں ہیں؟سوال یہ ہے کہ اُردو کیوں نہیں ہے؟ مشاعرہ اگر واقعی اُردو کی ادبی روایت کا تسلسل ہے تو پھر اس کی شناخت، اس کا چہرہ، اس کی روح، سب اُردو میں کیوں نہیں؟ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اپنی ہی زبان کو نمایاں کرنے سے گھبراتے ہیں؟
کڑوی سچائی یہ ہے کہ ہم نے اُردو کو محدود کر دیا ہے۔جب ہم تقریر کرتے ہیں تو ہماری غیرت جاگ جاتی ہے اُردو اشعار سے ہی اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں، مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو ہم غیروں سے مرعوب نظر آتے ہیں ۔
ہم حکومت سے شکایت کرتے ہیں کہ اُردو کو سرکاری سطح پر جگہ نہیں ملتی، لیکن اپنے پروگرام کے ایک پوسٹر پر بھی اسے پورا حق دینے کو تیار نہیں۔ یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟
یاد رکھئے! یہ محض زبانی لاپرواہی نہیں، یہ تہذیبی بے حسی ہے۔ رسم الخط زبان کا لباس نہیں، اس کی شناخت ہے۔ جب یہی شناخت غائب کر دی جائے تو شاعری کی ساری داد بھی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ مشاعرہ محض شور و غل کا میلہ اور لطیفوں کی محفل نہیں؛ یہ تحریر، روایت اور تاریخی تسلسل کا امین ہوتا ہے۔اس پورے معاملے میں مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس مشاعرے سے ڈاکٹر آفتاب انور شیخ، ڈاکٹر معین الدین خان اور شمیم طارق جیسے سنجیدہ اہلِ قلم کے نام وابستہ ہیں۔ یہ سب حضرات اُردو کے ادیب، اہلِ ذوق اور محبّانِ اُردو کے طور پر جانے جاتے ہیں، اسی لیے یہ زیادہ باعث تشویش ہے۔ عام منتظمین سے تو غفلت کی توقع کی جا سکتی ہے، مگر ایسے لوگوں سے، جو برسوں سے اُردو کی علمی و ادبی فضا سے جڑے رہے ہوں، اس قسم کی چوک سمجھ سے بالاتر ہے۔
احترام اپنی جگہ، لیکن سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر ایسی محفل میں اُردو رسم الخط کو نظر انداز کیسے ہونے دیا گیا؟ ان شخصیات سے یہی امید کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اس کمی کا احساس کریں گے بلکہ آئندہ ایسی کسی بھی بات کی گنجائش باقی نہیں رہنے دیں گے، کیونکہ اُن کا نام خود اُردو کے وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب صاف اعلان کردیں کہ جو مشاعرہ اُردو رسم الخط کو مرکزی حیثیت نہیں دیتا، وہ اُردو کی خدمت نہیں کررہا ہے بلکہ اس کی حق تلفی کر رہا ہے۔تمام شعراء، ادباء اور محبان اُردو ایسے پروگرام اور اس کے منتظمین کا سختی سے بائیکاٹ کریں اور ان سے صاف لفظوں میں کہہ دیا جائے کہ ہر دعوت نامہ، ہر بینر، ہر اسکرین سلائیڈ—سب سے پہلے اُردو میں ہوگی۔ دیگر زبانیں ساتھ ہوں، لیکن اُردو کا مقام مرکزی حیثیت سے ہو۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ پلیٹ فارم محض شاعری سنانے کا نہ رہے بلکہ مطالبات کی آواز بنے: اسکولوں میں معیاری اُردو کتابیں، اُردو اساتذہ کی تقرری، اُردو اخباروں میں بھی سرکاری اشتہارات اور اُردو لٹریچر طباعت کے بجٹ میں اضافہ۔ جب تک مشاعرہ زبان کے عملی مستقبل سے نہیں جڑے گا، تب تک یہ صرف چند گھنٹوں کی تفریح رہے گا۔
یاد رکھیے، روشنیوں سے سجی محفل ختم ہوتے ہی اندھیرا لوٹ آتا ہے، مگر جو زبان دلوں میں زندہ ہو، کاغذ، نصاب اور سرکاری ریکارڈ میں موجود ہو، اسے کوئی اندھیرا مٹا نہیں سکتا۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے—ہم مشاعرہ کے ذریعہ اُردو زبان کا فروغ چاہتے ہیں یا محض رسمی تقاریب کر اپنے ذاتی مفاد کے لئے اُردو کا استعمال کر رہے ہیں؟









