مدھیہ پردیش کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ کا حالیہ بیان ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ گذشتہ دنوں انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں دلت یا آدیواسی طبقے سے کوئی وزیرِ اعلیٰ بنتا ہے تو انہیں خوشی ہوگی۔ بظاہر یہ ایک سادہ سیاسی بیان معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ جملہ بھارت کے موجودہ سماجی و سیاسی حالات میں ایک گہری معنویت رکھتا ہے۔
اس بیان سے دلت ، ایس سی- ایس ٹی، او بی سی تحریک کو طاقت ملے گی اور منووادی پونجی وادی عناصر جو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندو راشٹر کا خواب دیکھ رہے ہیں ان پر لگام لگے گی اور ملک کی سالمیت برقرار رہے گی۔
غور طلب ہے کہ دگ وجے سنگھ کا یہ کہنا محض ایک رسمی یا انتخابی جملہ نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ملک میں اقتدار، اختیار اور فیصلہ سازی پر آج بھی چند مخصوص طبقات کی اجارہ داری قائم ہے، جبکہ آبادی کی اکثریت — خصوصاً دلت، پسماندہ، آدیواسی اور اقلیتیں — حاشیے پر دھکیلی جا رہی ہیں۔
آج سوال یہ نہیں کہ حکومت کس پارٹی کی ہو، اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں سماجی انصاف واقعی نافذ ہوگا یا نہیں۔ اگر بھارت کی، اور خاص طور پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی، گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط کرنا ہے، اگر سماجی ہم آہنگی، باہمی اعتماد اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے، تو پھر یہ ضروری ہے کہ دلت یا آدیواسی طبقے سے وزیرِ اعلیٰ بنایا جائے نیز عدلیہ کے تمام عہدوں چہاں سے انصاف کی سدا لگائی جاتی ہے وہاں بھی انہیں مناسب مقام دیا جانا چاہئے۔ یہی وہ طبقات ہیں جنہوں نے صدیوں کی محرومی، استحصال اور نظراندازی کے باوجود اس ملک کو جوڑے رکھا ہے۔
ٍیہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ کوئی جذباتی مطالبہ نہیں بلکہ ملک کو مزید ٹوٹنے سے بچانے کی ایک سنجیدہ حکمتِ عملی ہے۔ جب اقتدار چند منو وادی اور پونجی وادی عناصر کے ہاتھ میں ہو جاتا ہے تو سماج میں نفرت، عدم مساوات اور انتشار بڑھتا ہے۔ آج سیاست ہو، معیشت ہو، میڈیا ہو یا عدلیہ — ہر جگہ یہی عناصر غالب نظر آتے ہیں۔
حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ منو وادی اور پونجی وادی طبقہ ملک کی مجموعی آبادی کا محض 2.5 فیصد سے 5 فیصد کے درمیان ہے، لیکن اس قلیل اقلیت نے ریاستی طاقت، سرمائے، پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر مکمل قبضہ جما رکھا ہے۔ چند ہزار خاندان کروڑوں عوام کی تقدیر کا فیصلہ کر رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری ملک کے لیے نہایت خطرناک علامت ہے اور بھارت کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی۔
ایسے میں یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ دلت، آدیواسی، پسماندہ اور اقلیتیں اگر الگ الگ لڑتی رہیں گی تو اس منظم نظام کو کبھی شکست نہیں دے سکیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ SC، ST اور اقلیتیں ایک دوسرے کو اپنا فطری حلیف سمجھیں۔ منو وادی طاقتیں ہمیشہ ان طبقات کو آپس میں لڑا کر اپنا اقتدار مضبوط کرتی آئی ہیں، جبکہ اتحاد ہی وہ طاقت ہے جو اس غیر منصفانہ نظام کو جڑ سے ہلا سکتی ہے۔
سماجی ناانصافی کی ایک بدترین مثال 1950 وہ کا صدارتی حکم نامہ ہے، جس کے تحت دلت اقلیتوں کو درج فہرست ذات (ST-SC) کے آئینی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔ اس ایک فیصلے کے نتیجے میں ملک کی تقریباً 131 پارلیمانی نشستیں جو کل سیٹوں کا تقریباً 24فیصد ہے، ایسی بن گئیں جہاں سے اقلیتی دلت ایم پی نہیں بن سکتے ہیں اور 1143 ایسی سیٹیں ہیں (کل کا 29فیصد) جہاں دلت اقلیت ایم ایل اے نہیں بن سکتے۔ یہ محض ایک قانونی شق نہیں بلکہ دلت اقلیتوں کو جمہوری عمل سے باہر رکھنے کی ایک منظم سازش ہے، جس نے انہیں دوہری محرومی میں مبتلا کر دیا ہے۔
اگر ہم عدالتی نظام پر نظر ڈالیں تو تصویر اور بھی تشویشناک ہو جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی متعدد مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ بھارتی عدلیہ میں خاندان پرستی، بھائی بھتیجاواد اور ذاتی مفادات کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کالجیم سسٹم، جو شفافیت اور میرٹ کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج سفارش، تعلقات اور ذات پات کی سیاست کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
جب ججوں کی تقرری بند کمروں میں طے ہونے لگے — بھائی، بھتیجا، داماد یا رشتہ دار — تو یہ سوال لازمی ہو جاتا ہے کہ سماجی انصاف کہاں کھڑا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں دلت، پسماندہ، آدیواسی اور اقلیتی جج نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ ہیں ہی نہیں، ہر جگہ منووادی اور پونجی وادی عناصر کا بول بالا ہے۔محسوس یہ ہوتا ہے کہ غریبوں کو انصاف ملنا اب مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔جب عدلیہ میں ہی سماجی نمائندگی نہیں ہوگی تو انصاف بھی کمزور ہی رہے گا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور عدلیہ ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ اگر کسی ریاست میں دلت یا آدیواسی وزیرِ اعلیٰ ہوگا تو وہ محض ایک عہدہ نہیں بلکہ اس پورے غیر منصفانہ نظام کو چیلنج کرنے کی اخلاقی قوت بن سکتا ہے، جو آج منوواد اور پونجی واد کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔
اصل مسئلہ صرف وزیرِ اعلیٰ کے عہدے تک محدود نہیں۔ ملک کے ہراہم اور فیصلہ کن منصب — گورنر، چیف سیکریٹری، ڈی جی پی، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر، عدلیہ، پولیس ، آرمی، جوڈیشری اور دیگر آئینی اداروں — میں دلتوں، آدیواسیوں اور اقلیتوں کو باوقار اور مؤثر شراکت ملنی چاہیے۔ نمائندگی محض علامتی نہ ہو بلکہ فیصلہ سازی میں حقیقی حصہ بھی ہو۔
آخر میں یہ بات دو ٹوک انداز میں کہنی ہوگی کہ جب تک دلت اور آدیواسی اقتدار کے مرکز میں نہیں آئیں گے، نہ گنگا جمنی تہذیب محفوظ رہ سکے گی، نہ جمہوریت مضبوط ہوگی، اور نہ ہی اس ملک کو مزید ٹوٹنے اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا جا سکے گا۔
لہٰذا دگ وجے سنگھ کے بیان کو محض ایک ذاتی رائے یا سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک تاریخی تقاضا سمجھا جانا چاہیے۔ آج بھارت کو ایسے چہروں کی ضرورت ہے جو اقتدار کو وراثت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھیں، اور جن کا وجود ہی سماجی توازن، قومی یکجہتی اور جمہوری استحکام کی ضمانت بن سکے۔









