بھوپال:22؍جنوری:(پریس ریلیز )مہاراشٹر کے پونے شہرسے مشاعرہ کا یہ پوسٹر ہندی میں لکھا دیکھ کر سخت تکلیف ہوئی۔ یہ پوسٹر بظاہر ایک شاندار آل انڈیا مشاعرہ اور قومی یکجہتی کا پیغام دیتا ہے، مگر افسوس کہ جس زبان کی روح پر مشاعرہ قائم ہوتا ہے، وہی اردو زبان مشاعرے کے پوسٹرسے یہاں غائب ہے۔
مشاعرہ اور کوی سمیلن کی یہ تقریب ہو رہی ہے، لیکن اردو رسم الخط کو جگہ نہیں ملی، پورے اشتہار میں ایک لفظ بھی اُردو کا نہیں ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا اردو کو شعوری طور پر حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے؟ مشاعرہ اردو کے بغیر ایسا ہی ہے جیسے جسم بغیر روح کے۔یہ کہنے میں مجھے کوئی دریغ نہیں کہ :اردو کو اردو والے ہی مٹانے پہ تلے ہیں۔اوردم بھرتے ہیں کہ ہم اردو کے فروغ کے لئے کام کرتے ہیں۔ اگر واقعی قومی یکجہتی مطلوب ہے تو اردو کو بھی اس کا جائز مقام دینا ہوگا۔ ورنہ ایسے پوسٹر فروغ اردو کے بجائے اُردو کی تدفین کا اعلان معلوم ہوتے ہیں۔