لکھنو 19جنوری: جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کی بھوک ہڑتال اتوار دوپہر سے مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے مکمل طور سے کھانا اور پانی چھوڑ رکھا ہے۔ شنکراچاریہ کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ پروٹوکول کے ساتھ انہیں لے جا کر ’گنگا اسنان‘ کرائے۔ ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ سے بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے رویے سے انہیں کافی تکلیف پہنچی ہے۔ شنکراچاریہ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کے کہنے پر میرے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تاکہ وہ ہمیں سبق سکھا سکیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے ’ستوا بابا‘ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان سے تنازعہ کے بعد دوسرے سنت کو مکمل وی آئی پی انتظام کے ساتھ ’اسنان‘ کرایا گیا جو دوہرا معیار ہے۔ واضح رہے کہ شنکراچاریہ اور انتظامیہ کے درمیان ہوئے تنازعہ کے بعد ستوا بابا سینکڑوں کی تعداد میں اپنے حامیوں کے ساتھ ’مونی اماوسیا‘ پر اسنان کے لیے پہنچے تھے اور انتظامیہ نے انہیں مکمل وی آئی پی انتظام کے ساتھ گنگا اسنان کرایا تھا۔ لیکن شنکراچاریہ کو روک دیا تھا اور ان کے حامیوں کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔ شنکراچاریہ نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کل ان کے قتل کی سازش تھی۔ شنکراچاریہ نے بیریکیڈنگ توڑے جانے والے الزام پر کہا کہ ان کے لوگوں نے بیریر نہیں توڑا تھا بلکہ وہاں موجود پولیس اہلکاروں سے بات کرنے گئے تھے۔