بھوپال 8جنوری:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی ٹیکسٹائل صنعت اپنی وراثت کو محفوظ رکھتے ہوئے ترقی کی سمت آگے بڑھ رہی ہے۔ مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹ کے شعبے میں اہم کام ہو رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش حکومت نے ٹیکسٹائل صنعت کو روزگار پر مبنی صنعتی ترقی میں سب سے زیادہ ترجیح دی ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے مدھیہ پردیش کو صنعتی اور سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے نمایاں تعاون ملا ہے۔ وزیر اعظم مسٹر مودی نے اپنے یومِ پیدائش پر مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں ملک کے پہلے پی ایم مِتر پارک کا سنگِ بنیاد رکھا۔ یہاں ٹیکسٹائل پارک اور صنعتوں کا ایک ساتھ افتتاح کیا جائے گا۔ یہ پارک بھارت کو مضبوط بنانے کے عزم کی تکمیل بھی کرے گا۔
وزیر اعظم مسٹر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں بھارت معاشی طور پر دنیا کی تیسری سب سے بڑی طاقت بننے کی سمت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماں کاماکھیا کی دھرتی آسام سے آج ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو نئی سمت حاصل ہوگی۔ تمام ریاستوں میں ٹیکسٹائل صنعت کو آگے بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو جمعرات کو گوہاٹی میں منعقدہ ٹیکسٹائل وزراء کی قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ’بھارت کی ٹیکسٹائل صنعت — ترقی، وراثت اور اختراع کا تانا بانا‘ کے موضوع پر منعقد اس اہم کانفرنس میں مرکزی وزیرِ ٹیکسٹائل مسٹر گری راج سنگھ خصوصی طور پر موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ثقافت، اقدار، وسائل اور وراثت کے لحاظ سے مدھیہ پردیش، ٹیکسٹائل سمیت متعدد صنعتوں میں ملک میں سرِفہرست ہے۔ ریاستی حکومت صنعتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے مختلف اختراعی اقدامات کر رہی ہے۔اس کے تحت صوبائی اور ضلعی سطح پر ریجنل انڈسٹری کانکلیو کے ذریعے اْجین، ریوا، کٹنی، بھوپال، اندور، گوالیار اور جبل پور سمیت کئی اضلاع میں صنعتی ترقی سے وابستہ سرگرمیوں میں توسیع ہوئی ہے۔
ریاست میں لوک ماتا دیوی اہلیہ بائی کے دور سے مہیشوری اور چندیری ساڑی جیسے ریشمی کپڑوں کو فروغ دینے کی روایت رہی ہے۔ریاستی حکومت نے نرمداپورم میں اعلیٰ معیار کے مل بری ریشم اور آرگینک کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے خصوصی کوششیں کی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں ٹیکسٹائل ملز، لوم، ہینڈلوم اور اسپنڈلز کے ذریعے بڑی تعداد میں خواتین کو جوڑ کر خود کفیل بنایا جا رہا ہے۔مدھیہ پردیش آرگینک کاٹن، مین میڈ فائبر اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کھرگون، بدھنی سمیت قبائلی اکثریتی علاقوں میں بھی ٹیکسٹائل سیکٹر کو فروغ دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی ویلیو چین میں ریاستی حکومت نے 25 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کروائی ہے، جس سے آئندہ لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا۔ سال 2026 میں مدھیہ پردیش نئے عزم کے ساتھ ترقی کی بلند پرواز کے لیے تیار ہے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جولائی 2026 میں حکومتِ ہند کی جانب سے منعقد ہونے والی قومی ٹیکسٹائل کانفرنس میں مدھیہ پردیش حکومت شراکت دار بننے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیرِ ٹیکسٹائل سے درخواست کی کہ اگلی قومی کانفرنس بابا مہاکال کی نگری اْجین میں منعقد کی جائے، کیونکہ اْجین ٹیکسٹائل صنعت کا تاریخی مرکز رہا ہے۔
مدھیہ پردیش میں ٹیکسٹائل صنعت کے شعبے میں اقدامات قابلِ تعریف: مرکزی وزیر مسٹر گری راج سنگھ
مرکزی وزیرِ ٹیکسٹائل مسٹرگری راج سنگھ نے ریاست میں ٹیکسٹائل صنعت کے فروغ کے لیے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی کوششوں کی ستائش کی۔ دھار میں زیر تعمیر ملک کے پہلے پی ایم مِترپارک میں تیزی سے جاری کام پر قومی کانفرنس کے شرکاء نے تالیوں کی گونج کے ساتھ وزیر اعلیٰ کا خیر مقدم کیا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی موجودگی سے ٹیکسٹائل وزراء کی قومی کانفرنس کی رونق دوبالا ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ ٹیکسٹائل مدھیہ پردیش میں دو اقسام کے فائبر پر کام کرنا چاہتی ہے:پہلا — لینن جو السی سے حاصل ہوتا ہے اوردوسرا — ملک بلٹ (مدار) فائبر۔مرکزی حکومت نئے دور کے فائبرز کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ ٹیکسٹائل کا واضح روڈ میپ تیار کر کے سرگرمیاں انجام دیں اور ٹیکنیکل فائبر کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں جتنی مشین سے بننے والے فائبر کو دی جاتی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ زراعت کے بعد ٹیکسٹائل ملک میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے۔ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی پالیسیوں کے سبب ملک کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پی ایم مِتر پارک کے ذریعے ایک مضبوط ایکو سسٹم تیار کیا جا رہا ہے۔مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اتر پردیش اور کرناٹک میں پی ایم مِترپارکس کے قیام کی رفتار تیز ہو چکی ہے۔ ان پارکس میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ہوگی، جس سے لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا۔ گارمنٹ سیکٹر میں ایک کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر اوسطاً 40 سے 60 افراد کو روزگار ملتا ہے۔ وزیر اعظم مسٹرمودی کے دورِ حکومت میں صنعتی سلائی مشینوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے ذریعے ملک بھر میں 3 کروڑ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔