ڈھاکہ، 6 جنوری (یو این آئی) ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے مشورے پر انڈین پریمیئر لیگ سے قبل کولکاتہ نائٹ رائیڈرز ٹیم سے مستفیض الرحمٰن کا باہر ہونا عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا، خاص طور پر اس وقت جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے ہندوستان نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، مستفیض الرحمٰن اس تمام بیرونی شور سے بے فکر نظر آرہے ہیں۔مستفیض، جو اس وقت جاری بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں رنگپور رائیڈرز کی نمائندگی کر رہے ہیں، گیند سے مسلسل شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ چار جنوری کو سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ڈھاکہ کیپیٹلز کے خلاف انہوں نے ڈیتھ اوورز میں لاجواب گیندبازی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو پانچ رن سے سنسنی خیز فتح دلائی۔ اس میچ میں انہوں نے 18ویں اوور میں صرف دو رن دیے اور آخری اوور میں 10 رن بچانے سے قبل شمیم حسین کو بھی آؤٹ کیا۔بی سی سی آئی کی جانب سے کے کے آر کو انہیں ٹیم سے باہر کرنے کی ہدایت دینے کے محض ایک دن بعد مستفیض نے یہ شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ مالی اعتبار سے بھی انہیں بڑا نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ آئی پی ایل نیلامی میں انہیں 9.2 کروڑ روپے میں خریدا گیا تھا، جو آئی پی ایل کی تاریخ میں کسی بھی بنگلہ دیشی کھلاڑی کے لیے سب سے بڑی رقم ہے۔محمد اشرفل، جو موجودہ بی پی ایل میں رائیڈرز کے اسسٹنٹ کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، نے چٹاگانگ رائلز کے خلاف میچ کے بعد صحافیوں سے کہا،”وہ (مستفیض) بالکل پرسکون ہیں۔ میدان سے باہر کی باتوں سے وہ بالکل بھی پریشان نہیں-چاہے وہ بی سی بی ہو، ہندوستان ہو، بی پی ایل ہو یا آئی سی سی۔”انہوں نے مزید کہا،”اس وقت ان کی توجہ صرف رنگپور رائیڈرز کے لیے کھیلنے پر مرکوز ہے، اس کے بعد جو بھی آئے گا، وہ اس پر توجہ دیں گے۔ وہ ایک مختلف مزاج کے انسان ہیں۔اشرفل مستفیض کے ساتھ کام کریں گے، کیونکہ وہ اس وقت بنگلہ دیش کے بیٹنگ کوچ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا،”اگر ابتدائی دو میچوں کی بات کریں تو مستفیض کی کارکردگی کچھ کمزور تھی، لیکن جس انداز میں ہم نے ڈھاکہ کے خلاف آخری میچ جیتا، وہ شاندار تھا۔ آخری دو اوورز میں جس طرح انہوں نے گیندبازی کی ،میرا ماننا ہے کہ وہ اس فارمیٹ کے لیے ورلڈ چیمپئن ہیں، وہ بے حد اہم ہیں۔مستفیض کے ٹیم کے ساتھی محمد سیف الدین، جو جاری بی پی ایل میں ڈھاکہ کیپیٹلز کے لیے کھیل رہے ہیں، نے بھی اسی طرح کی رائے دی۔ سیف الدین نے ایک پریکٹس سیشن کے بعد کہا،”رنگپور رائیڈرز کے خلاف ہمارا آخری میچ تھا۔ میچ کے بعد ہم ساتھ ڈنر کر رہے تھے، میں نے انہیں اپنے پاس بٹھایا۔ ہمیں لگا وہ مایوس ہوگا، مگر ایسا بالکل نہیں تھا۔ وہ موسیقی سن رہے تھے اور ہمیشہ کی طرح پُرسکون دکھائی دے رہے تھے۔بنگلہ دیش ٹیم کے سینئر اسسٹنٹ کوچ محمد صلاح الدین نے زور دے کر کہا کہ انہیں مستفیض کے رویّے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔”میں انہیں کافی عرصے سے جانتا ہوں، اور انہوں نے مسکراتے ہوئے سب کچھ سنبھالا ہے،یہ ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ آپ انہیں اپنے الفاظ یا جذبات سے سرخیوں میں آتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔









