سڈنی ٹیسٹ کے بعد عثمان خواجہ ریٹائر ہوں گے
سڈنی، 02 جنوری (یواین آئی) آسٹریلیا کے سلامی بلے باز عثمان خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سڈنی میں ایشیز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔39 سالہ خواجہ اپنے آخری ٹیسٹ میں 87 میچوں اور 6206 رن کے ساتھ میدان میں اتریں گے، جن میں 16 سنچریاں شامل ہیں۔خواجہ نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کے پریس روم میں اپنے خاندان کی موجودگی میں کہا،”میں کافی عرصے سے اس سلسلے میں سوچ رہا تھا۔ اس سیریز میں آتے وقت میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ میری آخری سیریز ہو سکتی ہے۔میں نے اس بارے میں ریچل (اہلیہ) سے کافی گفتگو کی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ یہ ایک بڑا موقع ہے۔ میں نے دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ آگے کھیلنے کا امکان بھی موجود ہے۔ کوچ اینڈریو میکڈونالڈ آخری وقت تک یہ سوچ رہے تھے کہ میں 2027 میں ہندوستان کیسے جا سکتا ہوں۔
مجھے خوشی ہے کہ میں اپنی شرائط پر، عزت کے ساتھ، اسی میدان پر ریٹائر ہو رہا ہوں جس سے مجھے محبت ہے۔ تاہم سیریز کی شروعات میرے لیے کافی مشکل رہی۔ پھر ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے لیے ابتدائی طور پر منتخب نہ ہونا شاید میرے لیے یہ اشارہ تھا کہ اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔خواجہ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ دو برسوں میں کئی بار ریٹائرمنٹ پر غور کیا تھا اور پچھلے سال ہندوستان کے خلاف باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے آس پاس انہوں نے آسٹریلیا کے کوچ میکڈونالڈ سے اس بارے میں بات بھی کی تھی۔ انہوں نے کہا،”میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر کسی بھی وقت آپ چاہتے ہیں کہ میں ریٹائر ہو جاؤں تو میں فوراً کر لوں گا۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں اپنے لیے نہیں رکا تھا۔””سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ لوگ مجھ پر سوال اٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں خودغرض ہوں۔ لیکن میں اپنے لیے نہیں رکا تھا۔ میکڈونالڈ نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں کھیلتا رہوں۔ انہیں سری لنکا کے دورے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لیے میری ضرورت تھی، اسی لیے میں کھیلتا رہا۔
خواجہ نے تصدیق کی کہ بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ برسبین ہیٹ کے لیے بی بی ایل کھیلتے رہیں گے۔ وہ گرمیوں کے بقیہ سیزن میں کوئنزلینڈ کے لیے شیفیلڈ شیلڈ کھیلنے کی بھی امید رکھتے ہیں۔سڈنی کرکٹ گراؤنڈ، جہاں خواجہ کا ٹیسٹ کریئر ختم ہوگا، وہی میدان ان کے کریئر کی شروعات اور دوبارہ احیا کی جگہ بھی رہا ہے۔ انہوں نے 11-2010سیریز کے آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کیا تھا۔ اس کے بعد دو سال ٹیم سے باہر رہنے کے بعد 2021-22 کی ایشیز میں ٹریوس ہیڈ کی جگہ واپسی کرتے ہوئے انہوں نے دو سنچریاں اسکور کی تھیں۔
مسلسل دو سنچریوں نے انہیں ٹیم کے لیے ضروری بنا دیا اور انہیں اننگز کا آغاز کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے بعد وہ ایک بھی ٹیسٹ سے محروم نہیں رہے، یہاں تک کہ اس ایشیز میں پیٹھ میں تکلیف کے باعث وہ برسبین ٹیسٹ سے باہر ہو گئے۔
ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے لیے ٹیم سے باہر کیے جانے پر ایسا محسوس ہوا کہ ان کا کریئر ختم ہو سکتا ہے، لیکن اسٹیون اسمتھ کے بیمار پڑنے کے بعد انہیں مڈل آرڈر میں بلے بازی کا موقع ملا۔ پہلی اننگز میں انہوں نے 82 رن بنائے اور دوسری اننگز میں 40 رن جوڑے، جس کے باعث انہیں میلبرن ٹیسٹ کے لیے برقرار رکھا گیا اور وہ خود اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر سکے۔کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او ٹوڈ گرینبرگ نے کہا،”عثمان نے آسٹریلیائی کرکٹ میں میدان پر اور میدان کے باہر غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔ ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد 15 برسوں میں وہ ہمارے سب سے دلکش اور مضبوط بلے بازوں میں شامل رہے ہیں اور عثمان خواجہ فاؤنڈیشن کے ذریعے بھی انہوں نے اہم کام کیا ہے۔ آسٹریلیائی کرکٹ کی جانب سے میں انہیں شکریہ اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ڈیبیو کے دوران انہوں نے زخمی رکی پونٹنگ کی جگہ لی تھی اور وہ آسٹریلیا کے لیے ٹیسٹ کھیلنے والے پہلے مسلم کھلاڑی بنے تھے۔ ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے لیے خواجہ کو جدوجہد کرنی پڑی۔ ان کی پہلی سنچری 2015 میں برسبین میں نیوزی لینڈ کے خلاف آئی۔ اس کے بعد انہوں نے اگلے چار ٹیسٹ میں سے تین میں سنچریاں اسکور کیں۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے مایہ ناز ٹیسٹ اوپنر عثمان خواجہ نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے ساتھ ہی آسٹریلیائی کرکٹ سسٹم اور میڈیا میں موجود مبینہ نسلی امتیاز کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپنے الوداعی بیان میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ آسٹریلیائی ٹیم کا حصہ ہونے کے باوجود انہیں ان کے پس منظر (Background) کی وجہ سے ہمیشہ الگ تھلگ محسوس کرایا گیا۔39 سالہ عثمان خواجہ، جو سڈنی میں اپنے کیریئر کا 88 واں اور آخری ٹیسٹ کھیلنے جا رہے ہیں، نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
میں نے ہمیشہ خود کو آسٹریلیائی ٹیم کے درمیان مختلف محسوس کیا، اور یہ احساس آج تک برقرار ہے۔ یہ سب صرف میرے خاندانی پس منظر کی وجہ سے تھا۔ اگرچہ ہماری ٹیم ہمارا فخر ہے، لیکن میرے ساتھ لوگوں کا رویہ ہمیشہ دوسروں سے الگ رہا۔
عثمان خواجہ نے میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کے رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انجری کے دوران ان پر بے جا لفظی حملے کیے گئے۔ انہوں نے بتایا: “مجھے کمر میں تکلیف تھی جو میرے بس میں نہیں تھی، لیکن جس طرح میڈیا اور ماضی کے کھلاڑیوں نے مجھ پر حملے کیے، وہ ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے دو دن کے بجائے پانچ دن تک ان تلخ حالات کا مقابلہ کیا۔”
واضح رہے کہ عثمان خواجہ نے 15 برس قبل اسی سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اب وہ اسی میدان پر اپنے سفر کا اختتام کر رہے ہیں۔ وہ آسٹریلیائی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، تاہم ان کے ان تازہ انکشافات نے آسٹریلیائی کرکٹ بورڈ کے لیے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔









