نئی دہلی، 30 دسمبر (یو این آئی) ہندوستان کو اس بات پر فخر ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا ملک ہے جہاں کھلاڑی غربت کے باوجود اپنی محنت اور خود اعتمادی کے بل پر آگے بڑھتے ہیں۔ سید مہدی حسن زیدی یعنی سید مودی اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ یہ مسلم بیڈمنٹن کھلاڑی اتر پردیش کے شہر سردار نگر، چوری چورا میں غربت کے ماحول میں پروان چڑھا۔31 دسمبر 1962 کو بھارت کے شہر گورکھپور میں پیدا ہونے والے سید مہدی نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور ایک پیشہ ور بیڈمنٹن کھلاڑی بننے کا خواب دیکھنے کی جرأت کی۔ یہ خواب کوئی غیر حقیقی یا مبالغہ آمیز نہیں تھا۔ سید مہدی نے مردوں کے سنگلز بیڈمنٹن میں اپنی نمایاں صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
سید مودی کا شمار ملک کے چوٹی کے بیڈمنٹن کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے آٹھ مرتبہ قومی چیمپئن ہونے کااعزاز حاصل کیا۔سید مودی نے دولت مشترکہ کھیلوں میں بیڈمنٹن سنگلز کا گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔
ان کا گھر کانام سید مہدی حسن زیدی تھا ۔ یہ سیدمہدی سےمودی کیسے بن گئے یہ ایک دلچسپ واقعہ ہے ۔ جونیئر بیڈمنٹن کمیٹی نے ان کے نام کی غلط املا کر دی اور سید مہدی کے بجائے انہیں سید مودی لکھ دیا۔ یہ غلطی دراصل ان کے لیے اچھی ثابت ہوئی۔ سید مودی کا نام پورے ہندوستان میں مشہور ہو گیا۔اس کے بعد مودی نے عالمی سطح پر بیڈمنٹن کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کیا اور بین الاقوامی اسٹیج پر اپنی پہچان قائم کی۔
سید مودی کو اپنے کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی 1982 میں برسبین میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران ملی۔ وہاں انہوں نے طلائی تمغہ جیتا اور چند ماہ بعد دہلی میں منعقد 1982 کے ایشیائی کھیلوں میں کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ وہ قومی سطح پر تقریباً ناقابل تسخیر تھے، کیونکہ انہوں نے 1980 سے 1987 تک مسلسل آٹھ سال تک قومی بیڈمنٹن چیمپئن شپ جیتی۔بیڈمنٹن کے کھلاڑی ومل کمار ان کے حریف مانے جاتے تھے، جب تک مودی حیات تھے، بنگلورو کے کھلاڑی ومل کمارکوئی بھی خطاب اپنے نام نہیں کرسکے۔
سید مودی اس وقت ایک ستارہ بن کر ابھرے جب انہوں نے 1980 میں وجئے واڑہ نیشنل میں پرکاش پڈوکون کو سیدھے سیٹوں میں شکست دی۔ چند ماہ قبل ہی پرکاش نے آل انگلینڈ بیڈمنٹن ٹائٹل جیتا تھا اور وہ 1971 سے 1979 تک قومی چیمپئن رہ چکے تھے۔ جب اس 18 سالہ نوعمر گورکھپور کے لڑکے نے انہیں شکست دی تو قومی چیمپئن شپ کا پرچم پرکاش پڈوکون سے سید مودی کے پاس چلا گیا۔ اس کے بعد سید مودی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور تادم مرگ قومی چیمپئن رہے۔
سید مودی کا مستقبل پرکاش پڈکون کی شکست کے بعد روشن نظر آنے لگا۔ انہیں پہ در پہ کامیابیوں کے بعد نارتھ ایسٹرن ریلوے گورکھپور میں ملازمت ملی اور 1981 میں ارجن ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ جب سید مودی نے دنیا بھر کا سفر کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ان کی زندگی میں کامیاباں ان کے قدم چومنے لگیں۔ وہ قومی سطح پر ناقابل تسخیر رہے، پرکاش پڈوکون نے ہندوستان میں کھیلنا بند کر دیا تھا اور ومل کمار کے علاوہ کوئی اور مودی کی رفتار اور اسٹروک کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے جمپ سمیش قابل دیدتھے۔ سید مودی نے سال 1983 اور 1984 میں دو بار آسٹریلین اوپن اور سال 1985 میں ایک بار مرتبہ یو ایس ایس آر اوپن کے بین الاقوامی خطاب جیتے۔
سید مودی نے اپنی ہم عمر لڑکی امیتا کلکرنی سے شادی کی۔ تاہم، یہ شادی جلد ہی ناخوشگوار رشتہ میں تبدیل ہوگئی۔ ان دونوں سے ان کے یہاں ایک بیٹی کی ولادت بھی ہوئی۔ بیٹی کی پیدائش کے دو ماہ بعد 28 جولائی 1988کو سید مودی کے ساتھ ایک دردناک حادثہ پیش آیا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس حادثہ کے بعد ایک عظیم کھلاڑی کا شاندار کیریئر ختم ہو گیا اور ہندوستان میں بیڈمنٹن کو شدید دھچکا لگا۔
مودی کی وفات کے بعد ان کی یاد میں ایک بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا آغاز کیا گیا۔ آل انڈیا سید مودی بیڈمنٹن چیمپئن شپ ہر سال لکھنؤ میں منعقد کی جاتی رہی، جو 2004 میں “سید مودی انٹرنیشنل چیلنج” کے نام سے جانی جانے لگی۔ دسمبر 2009 سے اس کا نام بدل کر “سید مودی گرینڈ پری” رکھا گیا، جس کا انعقاد بیڈمنٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا کے زیرِ اہتمام ہوا۔