بھوپال 24دسمبر: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی کی قیادت میں ریاستی حکومت ترقی اور عوامی بہبود کے لیے مسلسل اختراعات کر رہی ہے۔ عوامی خدمت کے کاموںاور ریاست کے ابھیودیہ ( ترقی ) کے لیے متعدد کاموں کوشروع کیاگیاہے۔ ہم گڈ گورننس اور حساسیت کی نئی مثال قائم کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد سرکاری فنڈز کو درست طریقے سے استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ سال 2025 کو صنعت اور روزگار کے سال کے طور پر منایا گیا۔ 2026 میں زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی اور 2027 نوجوانوں کو وقف ہوگا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ لال سلام کوآخری سلام کہتے ہوئے نکسل ازم کو ریاست سے ختم کرنا ہماری سب سے بڑی فراہمی رہی ۔ وزیر اعظم مسٹرمودی اور مرکزی وزیر داخلہ مسٹرامیت شاہ کے فعال تعاون سے ریاستی حکومت مقررہ وقت سے پہلے نکسل ازم کو ختم کرنے میں کامیاب رہی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مدھیہ پردیش حکومت کی دو سالہ فراہمیوںپر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دوردرشن کے ‘ڈی ڈی کانکلیو بھوپال-2025’ کے ایک خصوصی سیشن میں شامل ہوئے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ریاستی حکومت کی دو سالہ فراہمیوںاور مستقبل کی سمت پر اپنے خیالات شیئر کئے۔ پروگرام میں وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مسٹر ایل مروگن، مرکزی اطلاعات و نشریات کے سکریٹری مسٹرسنجے جاجو اور ایم ایل اے اور ریاستی صدر مسٹرہیمنت کھنڈیلوال خاص طور پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادوسے ا ینکر مسٹر سدھیر چودھری نے انٹرویو لیا۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو سے ریاستی حکومت کی دو سالہ فراہمیوں، حکومت کی ترجیحات، چیلنجوں، مستقبل کے لائحہ عمل اور ذاتی زندگی سے نکات پر بات چیت کی گئی ۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے “دمدار دو سال – موہن سرکار” ڈاکیومنٹری فلم کا رموٹ کنٹرول سے اجراء بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بجٹ کو دوگنا کرنا ہمارا ہدف ہے۔اس کے ساتھ ہی کفایت شعاری سے بچت کرنا بھی ہماری ترجیح ہے۔ شمسی توانائی کو ترجیح دے کر ہم نہ صرف حکومتی اخراجات کو کم کر رہے ہیں بلکہ کسانوں کو بچت کرنے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں۔ قابل تجدید توانائی کو فروغ دے کر مدھیہ پردیش ملک میں سب سے سستی بجلی فراہم کر رہا ہے۔ دہلی میٹرو اس بجلی سے چلتی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جب پالیسیاں اور نیت صاف ہوں تو خدا بھی مدد کرتا ہے۔ ہم نے ریاست میں تمام نظاموں کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ عوامی بہبود کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سرمایہ کاری ہمارے لئے صرف ایم او یوز کی تعداد نہیں، بلکہ زمین پر نظر آنے والے روزگار اور پیداوار کے ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ ریاست کی سرمایہ کاری کی پالیسی اور انتظامی طریقہ کار دونوں میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ پہلے، انویسٹرس سمٹ صرف اندور میں ہوتی تھی۔ ہم نے ان سرگرمیوں کو ریاست کے تمام ڈویزنوں تک پھیلا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب کہ عموماً 7-5 فیصد سرمایہ کاری کی تجاویز پر عمل کیا گیا، وہیںمدھیہ پردیش میں یہ تناسب 30 فیصد سے زیادہ تک پہنچ گیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹرمودی نے 2017 میں بھائوانتریوجنا شروع کی تھی۔ یہ بھائواتریوجنا اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملے اور مارکیٹ میں استحکام کا تحفظ ہو۔ ریاستی حکومت آنے والے سال کو زرعی بہبود کے سال کے طور پر منانے جار ہی ہے۔