ممبئی، 23 دسمبر (یو این آئی )ہندوستانی ڈومیسٹک کرکٹ کا اہم معرکہ ‘وجے ہزارے ٹرافی شروع ہونے جا رہا ہے، تاہم، اس بار سب سے زیادہ توجہ (روہت اور کوہلی) کی جوڑی اور جدوجہد کرتے ہوئے ٹی 20 کپتان سوریہ کمار یادو پر مرکوز رہے گی۔تقریباً 16 سال بعد ویراٹ کوہلی اس ٹورنامنٹ میں ایک ایسے وقت میں واپس آ رہے ہیں جب وہ ٹی 20 اور ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد صرف ون ڈے فارمیٹ پر توجہ دے رہے ہیں۔ آخری بار جب کوہلی نے یہ ٹرافی کھیلی تھی، تب سچن ٹینڈولکر اوپنر اور دھونی کپتان تھے۔ روہت شرما، جو آخری بار 2017-18 میں کھیلے تھے، ان کی واپسی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کی نظریں 2027 کے ورلڈ کپ پر جمی ہوئی ہیں۔ کوہلی جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز میں ‘پلیئر آف دی سیریزرہے، جبکہ روہت نے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں شاندار سنچریاں اسکور کر کے ثابت کیا کہ ان میں ابھی بہت کرکٹ باقی ہے۔ٹی 20 کپتان سوریہ کمار یادو کے لیے یہ ٹورنامنٹ کسی لائف لائن سے کم نہیں ہے۔ گزشتہ ایک سال سے ان کی فارم میں غیر معمولی تنزلی دیکھی گئی ہے،ٹی 20 میں ان کی اوسط محض 12.84 اور اسٹرائیک ریٹ 117.87 رہا ہے۔22 اننگز میں کوئی نصف سنچری اسکور نہ کر پانے والے ‘اسکائیکے لیے نیوزی لینڈ سیریز سے قبل خود کو ثابت کرنا لازمی ہے۔روہت اور کوہلی تو صرف ابتدائی چند میچز کھیلیں گے، لیکن رشبھ پنت کے پاس پورا ٹورنامنٹ موجود ہے۔ ٹیم سے ایک سال سے باہر رہنے والے پنت کے پاس دہلی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشان کشن کی طرح واپسی کا راستہ بنانے کا سنہری موقع ہے۔بنگلورو میں شائقین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ آر سی بی کی آئی پی ایل جیت کے جشن میں ہونے والی بھگڈر کے بعد، پولیس نے چناسوامی اسٹیڈیم کے گرد ہجوم کی اجازت نہیں دی۔